وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ صوبے یا انتظامی یونٹس کا قیام قومی مسئلہ ہے اس کی مخالفت نہیں ہونی چاہیے۔
خواجہ آصف نے پارلیمنٹ ہاؤس میں مقامی چینل سے سے گفتگو میں کہا کہ مجھے انتظامی یونٹس سے متعلق ابھی کوئی معلومات نہیں۔اسلام میں ایک آزاد ادارہ قائم کرنا جسے آپ اسمبلی بھی کہ سکتے ہیں اچھی بات ہے۔ اس کو صوبائی حکومت یا پھر کیپیٹل کی حکومت بھی کہ سکتے ہیں اور یہ چیز دنیا کے بہت سے دارالحکومت میں موجود ہے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا اگر وفاق میں یہ ہو رہا ہے تو صوبوں کو بھی اس کی پیروی کرنے میں کوئی حساسیت یا ہکچکاہٹ نہیں ہونا چاہیے۔ افغانستان میں چند صوبے ہوتے تھے اور اب وہاں پر انہوں نے 34,35 صوبے بنا لیے ہیں۔ اشرف غنی نے مجھ سے ملاقات میں کہا تھا کہ عوامی خدمت میں بہتری ہوئی ہے۔
وزیردفاع نے کہا کہ یہ ایک قومی مسئلہ ہے اس میں کہیں سے مخالفت نہیں ہونی چاہیے۔ یہ فیصلہ وفاق سمیت صوبوں کو مضبوط بنائے گا۔ پیپلز پارٹی سے متعلق کوئی قیاس آرائی نہیں کرسکتے۔ صوبے کا لفظ لوگوں کو شاید کنفیوز کرتا ہے انتظامی یونٹ لفظ استعمال کیا جائے تو بہتر ہو گا۔