loader-image
Karachi, PK
temperature icon 33°C
14-Oct-2026
2-Jumada al-Awwal-1448
☰
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 33°C
14-Oct-2026
2-Jumada al-Awwal-1448

مصنوعی پلکوں یعنی آئی لیش ایکسٹینشنز کا استعمال ایک ایسے جاندار کی افزائش کا باعث بن سکتا ہے  جو پلکوں کی جڑوں میں داخل ہو کر بینائی کو متاثر کر سکتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق طبی زبان میں ڈیموڈیکسکہلانے والی یہ مائٹس مصنوعی پلکوں کو جوڑنے کے لیے استعمال ہونے والے خشک گلو میں جمع ہونے والے مردہ جلدی خلیات کو خوراک کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ جس کے باعث ان کی تعداد تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق آئی لیش ایکسٹینشنز مردہ مائٹس کو بھی پھانس سکتی ہیں جس کی وجہ سے وہ قدرتی طور پر جسم سے خارج نہیں ہو پاتیں۔ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ مسئلہ ممکنہ طور پر سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے جن میں خارش، جلد کا خشک ہوجانا اور دھندلا نظر آنا شامل ہیں۔ مصنوعی پلکیں باقاعدگی سے استعمال  کروانے والی 96 فی صد خواتین میں یہ خوردبینی جاندار پائے جانے کا انشکاف ہوا ہے۔

برطانیہ میں ہر ہفتے تقریباً 1 لاکھ 29 ہزر آئی لیش ایکسٹینشن کے پراسیجر کیے جاتے ہیں۔ اس ٹریٹمنٹ میں بیوٹیشنز مصنوعی ریشوں کو گلو کی مدد سے پلکوں کے ساتھ جوڑتے ہیں، جس سے پلکیں زیادہ گھنی اور لمبی دکھائی دیتی ہیں۔

تاہم، اب ماہرینِ امراضِ چشم نے خبردار کیا ہے کہ اس طریقہ کار کے نقصان دہ ہونے کے حوالے سے شواہد میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ عمل آنکھوں کے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

یوکرین کی نیشنل پیروگوف میموریل میڈیکل یونیورسٹی کے ماہرین نے یورپی سوسائٹی آف کیٹریکٹ اینڈ ریفریکٹو سرجنز کی 44 ویں کانگریس میں اس طریقہ کار کے ممکنہ نقصانات کے حوالے سے اہم شواہد پیش کیے۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں