loader-image
Karachi, PK
temperature icon 35°C
15-Oct-2026
3-Jumada al-Awwal-1448
☰
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 35°C
15-Oct-2026
3-Jumada al-Awwal-1448

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے باعث پاکستان میں تیل کا بحران سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے باعث مستقبل قریب میں پاکستانی کی مشکلات میں مزید اضافے ہوسکتا ہے۔  پاکستان تیل کا ایک بڑا حصہ سعودی عرب سے درامد کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز پہلے ہی بند ہے اور پاکستان کے پاس بحیرہ احمر کا ایک متبادل راستہ تھا جہاں حوثیوں نے قبضہ کر لیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق حکومت نے اگست میں تیل کے تین بحری جہازوں کا بندوبست کیا تھا جنھیں حوثیوں نے روک لیا تھا تاہم پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے مداخلت کے لیے ایران سے رابطہ کیا اور حوثیوں نے بعد میں انھیں چھوڑ دیا۔

پاکستان کو مستقبل میں تیل کی زیادہ قیمت ادا کرنے کے لیے مزید ڈالر درکار ہوں گے۔ حکومت اس وقت خلیج کے علاوہ خام تیل کے دیگر ذرائع تلاش کرنے پر غور کر رہی ہے۔حکومت عمان اور فجیرہ سے تیل کی فراہمی پربات کرنے پر غور کر رہی ہے جبکہ لیبیا، امریکا، مغربی افریقہ اور قازقستان کے آپشنز کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

پاکستانی بندرگاہوں میں بہت بڑے خام تیل بردار جہازوں کو لنگر انداز کرنے کے لیے مطلوبہ گہرائی نہیں ہے اس لیے حکام کا پلان ہے کہ عمان میں صحار کے قریب یا حب کے ساحل کے قریب امریکا سے آنے والے وی ایل سی سی کو کھڑا کیا جائے اور اس کے سامان کو ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں منتقل کیا جائے۔

سنرجیکو واحد ریفائنری ہے جو اپنی ایس پی ایم پر دگنے سائز کے جہاز کو لنگر انداز کر سکتی ہے۔ تمام تر چیلنجز کے باوجود پاکستان نے اپنی پیٹرولیم سپلائی چین کو فعال رکھا ہے۔

تاہم حکام اور صنعت نے خبردار کیا ہے کہ نومبر کے لیے تیل کے بحری جہاز حاصل کرنا کہیں زیادہ مشکل اور مہنگا ہو گا۔ آبنائے ہر مز بند ہونے کے بعد بھی پاکستان کو سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن سے تیل فراہم کیا جاتا تھا۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں