وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حرمین شریفین ہمارے لیے ریڈ لائن ہے اس کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی کے لیے کوئی بھی خطرہ ہماری ریڈ لائن ہے جس کو کسی صورت کراس نہیں کرنے دیا جائے گا۔ سعودی عرب پر حوثیوں کی جانب سے کیے گئے حالیہ حملوں کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ مقدس شہر مکہ مکرمہ پر ڈرون حملوں کی کوشش نے دنیا بھر میں مسلمانوں کے اندر غصہ پھیلا دیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مسلمان اس طرح کا گھناؤنا جرم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔۔پاکستان اپنے برادر سعودی عوام کے ساتھ مکمل یک جہتی کے ساتھ کھڑا ہے جیسا ہم پوری تاریخ میں رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے رواں سال فروری میں خلیج اور مشرق وسطیٰ کو جنگ نے اپنی لپیٹ میں لیا۔ جنگ سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، معیشتوں کو نقصان پہنچا، جنگ سے آبنائے ہرمز جیسی اہم سمندری گزرگاہیں شدید دباؤ میں آ گئیں لیکن اس نازک موڑ پر پاکستان نے فوری اقدامات کا فیصلہ کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد میں واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لا کر تاریخی پیش رفت کی، اس تنازع کو ختم کرنے کے لیے کئی تاریخی اقدامات کیے گئے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک کاوشوں سے سفارتی کوششوں کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا کردار بھی قابل تحسین ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، چین اور دیگر دوست ملک کی امن کوششوں پر ممنون ہوں۔