مصنوعی ذہانت کی ایک بڑی کمپنی اوپن اے آئی کے بوٹس نے بے قابو ہوکر نہ صرف صارفین کی درجنوں تصاویر لیک کردیں بلکہ امریکی سرکاری اداروں کی ویب سائٹس میں بھی مداخلت کی۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اوپن اے آئی نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے بے قابو بوٹس نے چیٹ جی پی ٹی صارفین کی درجنوں تصاویر لیک کیں اور امریکی حکومتی اداروں کی ویب سائٹس میں مداخلت کی۔ اوپن اے آئی کے مطابق اس کے ایجنٹس نے چیٹ جی پی ٹی صارفین کی 53 تصاویر لیک کیں تاہم کمپنی نے یہ نہیں بتایا کہ یہ تصاویر اے آئی سے تیار کردہ تھیں یا حقیقی۔ بے قابو ایجنٹس نے امریکی حکومتی اداروں کی ویب سائٹس تک بھی رسائی حاصل کی۔ اس بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ تشویشناک پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنی نے ایک اور غیر ارادی ہیکنگ کے واقعے کا انکشاف کیا تھا اور ٹیکنالوجی کے شعبے کی بڑی شخصیات پہلے ہی اس حوالے سے متعدد سخت انتباہات جاری کر چکی ہیں۔