امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ منگل کے روز چین روانہ ہو گئےہیں ۔ جہاں وہ چینی صدر سے ملاقات کریں گے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے معاملے پر شی جن پنگ سے “طویل گفتگو” کریں گے، تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت بنیادی اور اہم موضوع ہوگا۔
دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ دراصل “ایک باوقار قوم” اور “جھوٹے الزامات گھڑنے والوں” کے درمیان جنگ ہے۔
اس دورے کے ممکنہ اہم نکات :
- ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ زیادہ دیر نہیں چلے گی اور صورتحال “جلد ختم” ہو سکتی ہے۔
- امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
- چین ایران کا اہم معاشی اتحادی سمجھا جاتا ہے اور تہران، بیجنگ سے اپنے تعلقات کو مضبوط قرار دے رہا ہے۔
- امریکی وزیر دفاع اور کانگریس میں جنگ کے اخراجات اور حکمتِ عملی پر شدید بحث جاری ہے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ملاقات میں ایران جنگ کے علاوہ تجارت، علاقائی سلامتی، مصنوعی ذہانت اور تائیوان جیسے معاملات بھی زیرِ بحث آئیں گے۔