کل کراچی میں پیر کا دن بظاہر کسی اور دن جیسا ہی ہوتا ہے۔ دفاتر کھلتے ہیں، اسکولوں کی گھنٹیاں بجتی ہیں، سڑکوں پر معمول کا شور ہوتا ہے۔ مگر اس شہر کی تاریخ میں کچھ پیر ایسے بھی گزرے ہیں جو صرف کیلنڈر کی تاریخ نہیں رہے بلکہ اجتماعی یادداشت میں ایک مستقل زخم بن گئے
۔ 15 اپریل 1985 بھی ایسا ہی ایک دن تھا، جب ناظم آباد کی ایک سڑک پر ایک تیز رفتار مزدا بس نے بشریٰ زیدی کو کچل دیا۔ وہ سرسید گرلز کالج کی طالبہ تھیں، ایک عام سی صبح گھر سے نکلیں، مگر شام تک ایک شہر کے دکھ کی علامت بن چکی تھیں۔
یہ حادثہ صرف ایک ٹریفک حادثہ نہیں رہا۔ اس نے کراچی کے اندر چھپی ہوئی بے چینی، محرومی اور تقسیم کو ایک دھماکے کی طرح باہر نکال دیا۔ سڑکوں پر احتجاج شروع ہوئے، بسوں کو آگ لگائی گئی، اور دیکھتے ہی دیکھتے شہر لسانی فسادات کی لپیٹ میں آ گیا۔ اس وقت کے اخباری ریکارڈ، خاص طور پر ڈان کی آرکائیوز، اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ایک طالبہ کی موت نے نہ صرف ٹرانسپورٹ نظام بلکہ پورے شہری ڈھانچے پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب کراچی نے پہلی بار شدت سے محسوس کیا کہ سڑکیں صرف آمدورفت کا ذریعہ نہیں بلکہ خطرے کی علامت بھی بن سکتی ہیں۔
وقت گزرتا گیا۔ شہر پھیلتا گیا۔ سڑکیں چوڑی ہوئیں، گاڑیاں بڑھتی گئیں، مگر کچھ چیزیں نہیں بدلیں۔ شاید نظام، شاید ترجیحات، یا شاید وہ سنجیدگی جس کی ضرورت تھی۔ اکتالیس سال بعد، ایک اور پیر آیا۔ 13 اپریل 2026۔ وہی شہر، وہی ہنگامہ خیز ٹریفک، اور وہی بے یقینی۔ سرسید کالج کے قریب ہی ایک آئل ٹینکر نے دو سگی بہنوں کو کچل دیا۔ چند لمحوں میں دو زندگیاں ختم ہو گئیں، اور پیچھے رہ گیا ایک ایسا سوال جس کا جواب دہائیوں سے نہیں ملا۔
ان دونوں واقعات کے درمیان فاصلہ صرف وقت کا ہے، حقیقت کا نہیں۔ 1985 میں مسئلہ مزدا بسوں کا تھا، جو بے قابو، تیز رفتار اور اکثر غیر تربیت یافتہ ڈرائیوروں کے ہاتھ میں ہوتی تھیں۔ آج وہی کردار آئل ٹینکرز، ڈمپرز اور دیگر بھاری گاڑیوں نے سنبھال لیا ہے۔ فرق صرف گاڑیوں کی نوعیت کا ہے، مسئلہ جوں کا توں ہے۔ کراچی، جو پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی مرکز ہے، یہاں روزانہ ہزاروں بھاری گاڑیاں شہری سڑکوں پر اس طرح چلتی ہیں جیسے یہ کسی صنعتی زون کا حصہ ہوں، نہ کہ ایک گنجان آباد شہر کا۔
اعداد و شمار اس مسئلے کو اور واضح کرتے ہیں۔ فلاحی ادارے، جن میں ایدھی فاؤنڈیشن سرفہرست ہے، بارہا اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ کراچی میں ٹریفک حادثات میں بھاری گاڑیوں کا تناسب مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ایمبولینس سروسز کے ریکارڈ، پولیس رپورٹس، اور اسپتالوں کے اعداد و شمار ایک ہی کہانی سناتے ہیں: سڑکیں محفوظ نہیں رہیں۔ مگر ان اعداد و شمار کے پیچھے جو انسانی کہانیاں ہیں، وہ اکثر خبروں کی سرخیوں میں چند گھنٹوں سے زیادہ زندہ نہیں رہتیں۔
یہاں ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے، اور وہ ہے ردعمل کا فرق۔ بشریٰ زیدی کی موت نے شہر کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا تھا۔ لوگ گھروں سے نکلے، احتجاج کیے، اور ایک اجتماعی غصہ سامنے آیا۔ آج، دو بہنوں کی موت کے بعد وہی شدت نظر نہیں آتی۔ کیا یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم ایک معاشرے کے طور پر بدل گئے ہیں؟ یا یہ کہ ہم مسلسل حادثات کے عادی ہو چکے ہیں؟ شاید یہ ایک ایسی تھکن ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے اندر جمتی گئی ہے، ایک خاموش قبولیت کہ یہ سب اب معمول کا حصہ ہے۔
یہ خاموشی خطرناک ہے۔ کیونکہ جب معاشرہ سوال کرنا چھوڑ دے، تو مسائل مستقل شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ کراچی میں ٹریفک قوانین کی کمی نہیں۔ بھاری گاڑیوں کے لیے اوقات کار مقرر کرنے کی باتیں بھی بارہا ہو چکی ہیں۔ رات کے اوقات میں انہیں چلانے کی اجازت، دن کے وقت پابندیاں، ڈرائیورز کی تربیت، فٹنس سرٹیفکیٹس—یہ سب پالیسی دستاویزات میں موجود ہے۔ مگر مسئلہ ہمیشہ عملدرآمد کا رہا ہے۔ قوانین کتابوں میں رہ جاتے ہیں، جبکہ سڑکوں پر ایک الگ ہی نظام چل رہا ہوتا ہے۔
شہر کی ساخت بھی اس مسئلے کو پیچیدہ بناتی ہے۔ کراچی ایک ایسا شہر ہے جہاں صنعتی سرگرمیاں، بندرگاہی نقل و حمل، اور رہائشی علاقے ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو چکے ہیں۔ کراچی پورٹ سے نکلنے والے کنٹینرز، آئل ٹینکرز اور ڈمپرز انہی سڑکوں سے گزرتے ہیں جہاں بچے اسکول جاتے ہیں، لوگ پیدل سڑک عبور کرتے ہیں، اور روزمرہ زندگی چلتی ہے۔ اس ملاپ نے خطرے کو معمول بنا دیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک اور پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور وہ ہے ڈرائیورز کی حالت۔ لمبے اوقات کار، کم تربیت، اور اکثر غیر رسمی بھرتی کا نظام ان ڈرائیورز کو خود بھی ایک خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ تھکاوٹ، نیند کی کمی، اور دباؤ ایسے عوامل ہیں جو حادثات کے امکانات کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔ مگر یہ مسائل بھی پالیسی سطح پر تو زیر بحث آتے ہیں، عملی سطح پر کم ہی نظر آتے ہیں۔

یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسا منظرنامہ بناتے ہیں جہاں حادثہ ایک امکان نہیں بلکہ ایک انتظار بن جاتا ہے۔ سوال صرف یہ ہوتا ہے کہ اگلی خبر کب آئے گی، اور کس کے بارے میں ہوگی۔
بشریٰ زیدی کا نام تاریخ میں محفوظ ہو گیا۔ ان کی موت ایک علامت بن گئی، ایک حوالہ جس کے ذریعے کراچی کی سیاسی اور سماجی تاریخ کو سمجھا جاتا ہے۔ مگر آج جو دو بہنیں اس سڑک پر اپنی جان گنوا بیٹھی ہیں، کیا ان کے نام بھی اسی طرح یاد رکھے جائیں گے؟ یا وہ صرف ایک اور خبر بن کر رہ جائیں گی، جسے چند دن بعد کوئی یاد نہیں کرے گا؟
یہ سوال صرف انفرادی نہیں، اجتماعی ہے۔ یہ شہر، یہ نظام، اور ہم سب اس کہانی کا حصہ ہیں۔ جب تک سڑکوں کو محفوظ بنانے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی جاتی، جب تک قوانین کو واقعی نافذ نہیں کیا جاتا، اور جب تک انسانی جان کو ترجیح نہیں دی جاتی، تب تک یہ سلسلہ رکے گا نہیں۔
کراچی کی سڑکیں آج بھی ویسی ہی ہیں جیسی 1985 میں تھیں—شاید زیادہ مصروف، زیادہ تیز، مگر اتنی ہی غیر محفوظ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب ہم نے ان کے خطرے کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔ اور شاید یہی سب سے بڑا المیہ ہے۔ کیونکہ جب خطرہ معمول بن جائے، تو المیے تاریخ نہیں بنتے، روزمرہ کا حصہ بن جاتے ہیں۔