×

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ بظاہر سفارتی امیدیں موجود ہیں، یہ لمحات اتنے سنسنی خیز ہیں کہ بیان سے باہر ہیں ۔ نہیں معلوم کب کیاہو جائے دونوں طرف ہی بیانات بھی جاری ہیں اور مثبت پیش رفت کی خبریں بھی ہیں ۔ لیکن ان سب قیامت خیز لمحوں میں پاکستان واحد ملک ہے جو دنیا بھر مین امن کا ضامن بنا ہوا ہے ۔

کبھی خبریں آتی ہیں کہ امریکا نے ایران کی سمندری تجارت کو عملی طور پر بند کر دیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا جب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی نئی کوششوں کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔

یہ صورتحال محض ایک فوجی اقدام نہیں بلکہ ایک وسیع جغرافیائی اور معاشی بحران کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ خلیج عمان اور آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شامل ہیں، اب ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی رہی ہے، اور اس میں کسی بھی رکاوٹ کے عالمی اثرات ناگزیر ہیں۔

امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران آنے اور جانے والی سمندری تجارت کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔ ابتدائی 48 گھنٹوں میں کئی جہازوں کو واپس موڑ دیا گیا۔ کچھ نے اپنی سمت تبدیل کی جبکہ کچھ نے اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ محض علامتی اقدام نہیں بلکہ ایک سخت اور مؤثر ناکہ بندی ہے۔

سمندری راستے، خاص طور آبنائے ہرمز ، عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ عالمی مارکیٹ کو بھی متاثر کرتی ہے۔ ایسوسی ا    یٹ پریس  کے مطابق حالیہ اقدامات کے بعد کئی تجارتی جہازوں نے اپنے راستے تبدیل کیے، جس سے خطے میں غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا۔

امریکہ کی پالیسی واضح طور پر “زیادہ دباؤ، کم رعایت” کی حکمت عملی پر مبنی نظر آتی ہے۔ امریکی حکام نے نہ صرف ایران کی بندرگاہوں کا محاصرہ کیا بلکہ ان ممالک کو بھی خبردار کیا ہے جو ایرانی تیل خریدتے ہیں۔ خاص طور پر چین کا ذکر کیا گیا، جو ایران کے تیل کا بڑا خریدار رہا ہے۔

یہ معاشی دباؤ دراصل سفارتی میز پر ایران کو جھکانے کی کوشش ہے۔ تاہم ایران نے اس کے جواب میں سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ناکہ بندی جاری رہی تو وہ خطے کی دیگر سمندری تجارت کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب مذاکرات کا عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کو ایک ممکنہ سفارتی مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔ امریکی حکام نے محتاط امید کا اظہار کیا ہے کہ کوئی نہ کوئی حل نکل سکتا ہے۔

تاہم اصل تنازعہ اب بھی برقرار ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام پر اختلافات سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ امریکا ایک طویل المدتی پابندی چاہتا ہے جبکہ ایران محدود مدت کے لیے تیار ہے۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں جاری دیگر تنازعات، خاص طور پر لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں، بھی مذاکرات کو پیچیدہ بنا رہی ہیں۔

وواشنگٹن پوسٹ کے مطابق فوجی سطح پر بھی کشیدگی کم نہیں ہوئی۔ امریکا نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے۔ ہزاروں اضافی فوجی تعینات کیے جا رہے ہیں اور بحری بیڑے کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا کسی بھی ممکنہ تصادم کے لیے تیار رہنا چاہتا ہے۔

یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سفارتکاری اور طاقت کا استعمال بیک وقت جاری ہے۔ ایک طرف مذاکرات کی بات ہو رہی ہے، دوسری طرف سخت ترین اقتصادی اور فوجی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

برطانیوی اخبار کا  تسلیم کرتا ہے کہ عالمی سطح پر اس بحران کے اثرات بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ یہ کشیدگی خوراک اور توانائی کے بحران کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پہلے ہی عالمی معیشت کو متاثر کر رہا ہے

دلچسپ بات یہ ہے کہ مالیاتی منڈیاں کبھی امید اور کبھی خوف کے درمیان جھولتی نظر آتی ہیں۔ جب مذاکرات کی خبریں آتی ہیں تو قیمتیں نیچے آتی ہیں، اور جب کشیدگی بڑھتی ہے تو مارکیٹ میں بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔

اس صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر وہ عام لوگ ہیں جو ان پالیسیوں کا براہ راست حصہ نہیں ہوتے۔ ایران کے اندر معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ تیل کی برآمدات رکنے سے حکومتی آمدن متاثر ہو رہی ہے، جس کا اثر روزمرہ زندگی پر پڑ رہا ہے۔

دوسری طرف خلیجی ممالک اور ایشیائی معیشتیں بھی غیر یقینی کا شکار ہیں۔ توانائی کی سپلائی میں رکاوٹ ان کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

یہ بحران صرف دو ممالک کے درمیان تنازعہ نہیں رہا۔ یہ ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے جس میں بڑی طاقتیں، علاقائی کھلاڑی اور عالمی معیشت سب شامل ہیں۔

موجودہ صورتحال یہ بتاتی ہے کہ دنیا ایک نازک توازن پر کھڑی ہے۔ ایک چھوٹا سا واقعہ بھی بڑے تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔

فی الحال امید اور خطرہ ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ مذاکرات کی باتیں جاری ہیں، مگر میدان میں طاقت کا استعمال بھی جاری ہے۔ آنے والے دن فیصلہ کریں گے کہ یہ بحران سفارتکاری سے حل ہوگا یا ایک بڑے تصادم میں بدل جائے گا۔

One Response

Leave a Reply to بی بی Cancel reply

بلا جھجھک اپنے خیالات کا اشتراک کریں۔ برائے مہربانی بد زبانی استعمال کرنے سے گریز کریں۔