loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
13-May-2026 25-Zul Qa'dah-1447
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
13-May-2026 25-Zul Qa'dah-1447

بھارت میں ووٹر فہرستوں کی تازہ جانچ پڑتال کے بعد ایک بڑا سیاسی اور سماجی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

مغربی بنگال سمیت مختلف علاقوں میں لاکھوں افراد کے ووٹ دینے کے حق سے محروم ہونے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیاسی جماعتوں نے اس عمل پر سوال اٹھائے ہیں اور اسے امتیازی قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر مسلم آبادی کے متاثر ہونے کے دعوے کے ساتھ۔ر

رپورٹ کے مطابق انتخابی کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹوں کی خصوصی جانچ کی گئی، جس کا مقصد جعلی، فوت شدہ یا غیر قانونی ووٹروں کے نام خارج کرنا بتایا گیا۔ تاہم اس کارروائی کے بعد بڑی تعداد میں ایسے افراد کے نام بھی فہرست سے ہٹا دیے گئے جو خود کو مکمل طور پر اہل اور درست دستاویزات کے حامل قرار دیتے ہیں۔

متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ انہیں بغیر کسی واضح وجہ کے ووٹ کے حق سے محروم کیا گیا ہے۔ کئی علاقوں میں لوگوں نے شکایت کی ہے کہ ان کے نام فہرست سے نکالے گئے حالانکہ وہ برسوں سے وہاں رہائش پذیر ہیں اور باقاعدگی سے ووٹ ڈالتے رہے ہیں۔

خاص طور پر ان حلقوں میں زیادہ شکایات سامنے آئی ہیں جہاں مسلم آبادی کی تعداد زیادہ ہے۔ اسی وجہ سے یہ معاملہ صرف انتظامی نہیں رہا بلکہ ایک بڑے سیاسی اور سماجی تنازع کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

سیاسی جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ یہ کارروائی جانبداری پر مبنی ہے اور اس کا مقصد مخصوص طبقے کے ووٹ کم کرنا ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف حکومتی اور انتخابی اداروں کا مؤقف ہے کہ یہ صرف ووٹر فہرست کو درست اور شفاف بنانے کی ایک معمول کی کارروائی ہے تاکہ غیر قانونی اندراجات ختم کیے جا سکیں۔

اس صورتحال کے باعث مغربی بنگال میں آئندہ انتخابات سے پہلے سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے۔ عوام میں بے چینی پائی جا رہی ہے اور کئی لوگ اپنے جمہوری حق کے مستقبل کے بارے میں تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں

بلا جھجھک اپنے خیالات کا اشتراک کریں۔ برائے مہربانی بد زبانی استعمال کرنے سے گریز کریں۔