وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ڈیزل کی قیمت میں نمایاں کمی کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کو حالیہ مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے،
جس سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے شعبے بلکہ زرعی اور صنعتی سرگرمیوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔
وزیرِ اعظم نے ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے 12 پیسے فی لیٹر کمی کی منظوری دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 385 روپے 54 پیسے سے کم ہو کر 353 روپے 43 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عوامی مشکلات کو کم کرنے اور معیشت کو سہارا دینے کے لیے کیا گیا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات کو جلد از جلد عوام تک منتقل کیا جائے تاکہ اس فیصلے کا حقیقی فائدہ عام آدمی تک پہنچ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ مہنگائی کے بوجھ کو کم کیا جائے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جائے۔
ماہرین کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں کمی سے اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے اخراجات کم ہوں گے، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں قیمتوں میں استحکام آ سکتا ہے۔ خاص طور پر زرعی شعبے میں اس فیصلے سے کسانوں کو ریلیف ملنے کی توقع ہے، کیونکہ ڈیزل کا استعمال کھیتی باڑی میں بڑی مقدار میں کیا جاتا ہے۔
آخر میں وزیرِ اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت عوامی فلاح کو اولین ترجیح دیتی ہے اور مستقبل میں بھی ایسے اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے اور عوام کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔