ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں یہ کمی عالمی طلب میں سست روی، معاشی خدشات اور سپلائی میں اضافے کے باعث سامنے آئی ہے۔ خاص طور پر بڑی معیشتوں میں صنعتی سرگرمیوں کی رفتار کم ہونے سے تیل کی طلب متاثر ہوئی ہے، جس کا براہ راست اثر قیمتوں پر پڑا۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر معاشی دباؤ برقرار رہا تو آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ دوسری جانب اوپیک پلس کی جانب سے ممکنہ پیداوار پالیسی بھی مارکیٹ کے رجحان پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا اثر پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کی معیشت پر مثبت پڑ سکتا ہے، جہاں درآمدی بل میں کمی اور مہنگائی کے دباؤ میں کچھ حد تک کمی متوقع ہے۔