پاکستان میں توانائی بحران ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا تھا۔، جہاں عالمی جیوپولیٹیکل کشیدگی، خاص طور پر ایران سے متعلق تنازع، نے گیس اور ایل این جی کی سپلائی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق ملک کو تقریباً 3400 میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے جبکہ ایل این جی پلانٹس اپنی صلاحیت کے مقابلے میں نہایت کم پیداوار دے رہے ہیں۔
ایسے حالات میں ایک بار پھر ایران-پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جو 2009 میں شروع ہوا مگر عالمی پابندیوں اور سیاسی دباؤ کے باعث تعطل کا شکار رہا۔ اس منصوبے کی تکمیل نہ ہونے پر پاکستان کو تقریباً 18 ارب ڈالر کے ممکنہ جرمانے کا سامنا ہے، جس کے لیے حکومت پہلے ہی ایران سے توسیع کی درخواست کر چکی ہے۔
اسی تناظر میں ایک نئی مالیاتی تجویز، ڈیجیٹل پائپ لائن سکوک (DPS)، سامنے آئی ہے۔ جسے ماہرین توانائی اور فنانس ایک متبادل حل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اس ماڈل کے تحت گبد سے گوادر تک 80 کلومیٹر پائپ لائن کے ابتدائی حصے کو روایتی قرض کے بجائے ریونیو بیسڈ فنانسنگ کے ذریعے مکمل کیا جا سکتا ہے، جس سے نہ صرف سرمایہ کاری کے نئے راستے کھلیں گے بلکہ ریاستی قرضوں میں اضافہ بھی نہیں ہوگا۔
یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کو مہنگی ایل این جی خریدنے یا فرنس آئل پر انحصار بڑھانے جیسے مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے بجلی کی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر پائپ لائن منصوبہ فعال ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف توانائی کی فراہمی کو مستحکم کرے گا بلکہ گوادر جیسے صنعتی علاقوں کی ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
دوسری جانب، تجزیہ کار یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ اس طرح کے بڑے انفراسٹرکچر منصوبے صرف مالیاتی حل نہیں بلکہ جیوپولیٹیکل حکمت عملی کا حصہ ہوتے ہیں۔ موجودہ حالات میں، جہاں عالمی توانائی منڈیاں عدم استحکام کا شکار ہیں، پاکستان کے لیے یہ فیصلہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ وہ توانائی کے حصول کے لیے کون سا راستہ اختیار کرتا ہے—روایتی درآمدی ایندھن یا علاقائی پائپ لائن منصوبے۔
آئی پی گیس پائپ لائن (گبد-گوادر سیکشن) کے لیے ریونیو بیسڈ فنانسنگ ماڈل کیا ہے ؟
1. اسٹریٹجک ضرورت
پاکستان اس وقت دوہرے بحران کا شکار ہے: ایک طرف توانائی کی شدید قلت، اور دوسری جانب ایران کو منصوبے میں تاخیر کے باعث ممکنہ 18 ارب ڈالر کے جرمانے کا خطرہ۔ روایتی فنانسنگ ذرائع خودمختار قرضوں کی حد اور جیو پولیٹیکل حساسیت کی وجہ سے محدود ہیں۔ ڈیجیٹل پائپ لائن سکوک (DPS) ایک نان-ڈیٹ، اثاثہ جاتی بنیاد پر مبنی متبادل فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے ابتدائی 80 کلومیٹر حصے (158 ملین ڈالر) کی فنڈنگ ممکن بنائی جا سکتی ہے، جبکہ ریاست کو مزید مالی ذمہ داریوں سے بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
2. مالیاتی ساخت (ریونیو بیسڈ فنانسنگ ماڈل)
روایتی فکسڈ انٹرسٹ بانڈز کے برعکس، DPS کو ریونیو بیسڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے:
• اثاثہ: گبد سے گوادر تک 80 کلومیٹر پائپ لائن کے حصے کی ملکیت، جو ایک اسپیشل پرپز وہیکل (SPV) کے ذریعے منظم ہوگی۔
• “10 سینٹ رول”: سرمایہ کاروں کو ہر ایم ایم بی ٹی یو گیس کی ترسیل پر 0.10 ڈالر فیس دی جائے گی۔
• متوقع منافع: 750 ایم ایم سی ایف ڈی گنجائش اور 95 فیصد استعمال کی بنیاد پر، سالانہ 17.28 فیصد منافع (USD میں) حاصل ہونے کا امکان۔
• خودکار ادائیگی: آمدن براہ راست گیس کی ترسیل کی “سروس” سے حاصل ہوگی، جس سے سرمایہ کاروں کا منافع عالمی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے محفوظ رہے گا۔
3. ڈیجیٹل اجرا اور دولت کی گردش
سرمایہ کاری کو عام کرنے اور بینکاری رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے سکوک کو ڈیجیٹل انداز میں جاری کیا جائے گا:
• ہدف سرمایہ کار: بیرون ملک پاکستانی (NRPs) بذریعہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (RDA) اور مقامی ریٹیل سرمایہ کار۔
• بلاک چین انضمام: اسمارٹ کنٹریکٹس کے ذریعے خودکار اور حقیقی وقت میں منافع کی تقسیم۔ جیسے ہی گیس کی ترسیل ہوگی، 10 سینٹ فیس سرمایہ کاروں کے ڈیجیٹل والٹس میں منتقل ہو جائے گی۔
• جزوی سرمایہ کاری: کم از کم سرمایہ کاری (مثلاً 500 ڈالر) تاکہ دولت چند اداروں تک محدود رہنے کے بجائے عوام میں گردش کرے۔
4. رسک مینجمنٹ اور خودمختار تحفظ
• جیو پولیٹیکل تحفظ: عالمی سطح پر پاکستانی شہریوں میں ملکیت کی تقسیم سے منصوبے کو ایک “سماجی تحفظ” حاصل ہوگا۔
• ٹیک-اور-پے شق: حکومت پاکستان (ISGS) کم از کم گیس ترسیل کی ضمانت دے گی، جس سے 17 فیصد منافع مستحکم رہے گا، چاہے صنعتی طلب کم ہو جائے۔
• کرنسی تحفظ: گیس ٹیرف امریکی ڈالر سے منسلک ہونے کے باعث، روپے کی قدر میں کمی کا خطرہ ختم ہو جاتا ہے۔
5.معاشی اثرات
• توانائی کا تحفظ: گوادر انڈسٹریل زون کو اعلیٰ معیار کی گیس فراہم کرے گا، جس سے بڑے پیمانے کی صنعت (LSM) کو فروغ ملے گا۔
• قرضوں میں استحکام: ممکنہ 18 ارب ڈالر کے جرمانے کو ایک منافع بخش قومی اثاثے میں تبدیل کرتا ہے، بغیر IMF کے زیر نگرانی قرضوں میں اضافہ کیے۔
• مارکیٹ سگنل: پاکستان کو اسلامی فن ٹیک اور جدید انفراسٹرکچر فنانسنگ میں ایک رہنما کے طور پر پیش کرتا ہے۔
ڈیجیٹل پائپ لائن سکوک صرف ایک انفراسٹرکچر منصوبہ نہیں بلکہ ایک مالیاتی تبدیلی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اپنے عوام کے اجتماعی سرمائے سے ترقی کر سکتا ہے، روایتی قرضوں کے جال سے نکل کر شفاف، منافع بخش اور وسیع پیمانے پر دولت کی گردش کو ممکن بنا سکتا ہے۔