عالمی سطح پر ملک کی قبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بدلتی ہوئی صورتحال میں پاکستانی نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، جن سے فائدہ اٹھا کر ملک معاشی ترقی کی جانب بڑھ سکتا ہے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کمی “اونٹ کے منہ میں زیرہ” کے مترادف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں مزید کمی کی جائے اور پیٹرولیم لیوی کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ ان کے مطابق حکومت نے ڈیڑھ ماہ میں پیٹرولیم لیوی کی مد میں 80 ارب روپے جمع کیے، جو عوام پر اضافی بوجھ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور ن لیگ اپوزیشن میں تھیں تو وہ اسی لیوی کو “بھتہ” قرار دیتی تھیں، جبکہ آج وہی پالیسیاں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جھوٹے الزامات لگانے والوں کو عدالتوں کا سامنا کرنا پڑا، جس سے سیاسی بیانیے کی حقیقت واضح ہوئی۔
فاروق ستار نے ایران کے حوالے سے کہا کہ وہ ایک نظریاتی اساس پر قائم ریاست ہے اور پاکستان کو موجودہ حالات میں معاشی مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ درست پالیسی سازی کے ذریعے ملک بڑے معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔
انہوں نے سندھ کی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 18 سالہ حکمرانی کے اثرات آج بھی نظر آ رہے ہیں اور عوام میں حقیقی سیاسی شعور پیدا نہیں کیا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے تاریخی سیاسی شخصیات اور واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کے فیصلوں کا حساب آج بھی باقی ہے۔
کراچی میں حالیہ حادثات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہر میں ڈمپر اور لوڈر گاڑیوں سے قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں اور “کراچی کی بیٹیاں سڑکوں پر محفوظ نہیں رہیں”۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔