loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
13-May-2026 25-Zul Qa'dah-1447
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
13-May-2026 25-Zul Qa'dah-1447

پاکستان میں متعدی امراض، خصوصاً ایچ آئی وی اور ایم پاکس کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ پر ماہرین صحت نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، اور اسے ایک ابھرتا ہوا عوامی صحت کا بحران قرار دیا ہے۔

گزشتہ برسوں میں ایم پاکس کے کیسز بیرون ملک سے پاکستان منتقل ہوئے، تاہم ملک میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔۔اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ انڈس ہسپتال میں دوہزار دس سےتاحال 2080بڑے ایچ آئی وی ہیں

ڈاکٹر فرحین علی کے مطابق 2019 کے بعد سے اس مرض کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ 2010 میں جہاں نئے کیسز کی تعداد تقریباً 16 ہزار تھی، وہ 2024 میں بڑھ کر 48 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر جہاں ایچ آئی وی کنٹرول ہو رہا ہے، وہیں پاکستان میں اس کی شرح میں گزشتہ چند برسوں کے دوران تقریباً 200 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ماہرین نے سندھ کے علاقے رتوڈیرو میں ہونے والے بڑے ایچ آئی وی آؤٹ بریک کو ایک اہم مثال قرار دیا، جہاں متاثرہ بچوں میں سے 99 فیصد کو یا تو خون کی منتقلی (بلڈ ٹرانسفیوژن) ہوئی تھی یا انہیں انجیکشن لگائے گئے تھے۔ تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا کہ ان بچوں کو وائرس والدین سے منتقل نہیں ہوا بلکہ غیر محفوظ طبی طریقہ کار اس کی بنیادی وجہ بنا۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ برسوں میں ایم پاکس کے کیسز بیرون ملک سے آئے۔لیکن ملک میں ایچ آئی وی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ڈاکٹر فرحین علی نے کہا کہ 2019 کے بعد کیسز میں واضح اضافہ ہوا۔انھوں نے مزید کہا کہ۔2010میں 16 ہزار نئے کیسز تھے۔ جبکہ 2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 48 ہزار ہو گئی۔ان کا کہنا ہے کہ دنیا میں ایچ آئی وی کنٹرول ہو رہا ہے۔
لیکن پاکستان میں یہ بڑھ رہا ہے۔چند سالوں میں کیسز میں 200 فیصد اضافہ ہوا۔سندھ کے رتوڈیرو میں بڑا آؤٹ بریک سامنے آیا تھا۔
یہ دنیا کے بڑے آؤٹ بریکس میں شمار ہوا۔متاثرہ 99 فیصد بچوں کو بلڈ ٹرانسفیوژن یا انجیکشن لگے تھے۔یہ وائرس والدین سے منتقل نہیں ہوا۔ماہرین کے مطابق زیادہ تر کیسز غیر محفوظ طبی طریقوں سے پھیلے۔

ڈاکٹر سمرین سرفراز نے کہا کہ غیر محفوظ میڈیکل پریکٹس خطرناک ہے۔بچوں کو لاعلاج بیماری دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا مسئلہ پورے پاکستان میں موجود ہے۔ہائی رسک اضلاع میں پھیلاؤ زیادہ ہے۔ملتان اور کراچی میں بھی حالیہ آؤٹ بریک رپورٹ ہوا۔اگست سے اب تک 66 بچے متاثر ہوئے۔
یہ کیسز ہیلتھ سینٹرز سے جڑے ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا کہ ادویات بھی کم پڑ رہی ہیں۔انجیکشن سے انفیکشن کا خطرہ رہتا ہے۔

ڈاکٹر فاطمہ میر نے کہا کہ احتیاط ضروری ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ  انفیکشن سے بچاؤ پر توجہ دی جائے۔انہوں نے اپیل کی کہ جو لوگ محفوظ ہیں، انہیں ضرور بچایا جائے۔

عطائی ڈاکٹرز انفیکشن کا بڑا سبب ہیں .ولیکا اسپتال کےبارےمیں اطلاع ملی کہ استعمال شدہ سرنج لگائی گئی .انفیکشن کنٹرول پریکٹس اسپتالوں میں اختیار کی جائیں۔ڈاکٹر نسیم صلاح الدین

غیر محفوظ طریقے سےسرنج کوڑے سے اٹھاکر دوبارہ استعمال کرلی جاتی ہے۔بہت ضروری ہےکہ اسپتال منتظمین پیشگی حفاظتی انتظامات کریں۔اسکریننگ کےبغیر انتقال خون ہورہاہے

ڈاکٹر فوزیہ بریکر بھی متعدی امراض کی ماہر ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ  عطائی ڈاکٹرز انفیکشن کا بڑا سبب ہیں .ولیکا اسپتال کےبارےمیں اطلاع ملی کہ استعمال شدہ سرنج۔ لگائی گئی

.انفیکشن کنٹرول پریکٹس اسپتالوں میں اختیار کی جائیں۔ جبکہ ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کا کہنا ہے کہ غیر محفوظ انجکشن سےاب ہیلتھ کیئر پروئیڈر رسک پر ہیں۔     انفیکشن کےپھیلنےکےبعد ہوا انفیکشن روکنے پر کام نہیں ہوا۔ڈاکٹر فرحین

ڈاکٹرز کا حکومت سےمطالبہ ہے کہ حکومت ہر اسپتال میں انفیکشن کنٹرول بجٹ دے۔لازمی انجکشن سیفٹی پر سختی سےعمل کیاجائے۔ریگولیٹری باڈی غیر محفوظ سرنج استعمال ہونےپر کاروااءی کرے۔ بچوں کو ایچ آئی وی لگانےکےذمہ داروں کےخلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔ انفیکشن کنٹرول کو سلیبس کا حصہ بنایاجائے۔ اسپتال کا ایم ایس بننے کےلیے انفیکشن کنٹرول کا سرٹیفکیٹ لازم قرار دیا جائے۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں

بلا جھجھک اپنے خیالات کا اشتراک کریں۔ برائے مہربانی بد زبانی استعمال کرنے سے گریز کریں۔