بلوچستان کی حکومت نے ضلع گوادر کے ساحل سے 40 کلومیٹر دور واقع جزیرے استولا کو سمندری حیات کے لیے محفوظ علاقہ قرار دے دیا ہے۔
یہ پاکستان کا پہلا ایسا علاقہ ہے جسے یہ درجہ دیا گیا ہے۔جزیرۂ استولا جو بحیرہ عرب کی گہرائیوں میں بلوچستان کے ساحل سے دور ایک خاموش اور غیر آباد خطہ ہے، بظاہر ایک دلکش سیاحتی مقام دکھائی دیتا ہے۔ مگر اس کی اصل پہچان اس کے حسین مناظر نہیں بلکہ اس کا نازک ماحولیاتی توازن اور حیاتیاتی اہمیت ہے۔ 2017 میں حکومت پاکستان کی جانب سے اسے ملک کا پہلا میرین پروٹیکٹڈ ایریا قرار دیا گیا، جس کا مقصد اس کے منفرد سمندری اور زمینی ماحولیاتی نظام کا تحفظ ہے۔
ایسے میں جب اسے محض سیاحت کے نعرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، تو یہ نہ صرف اس کی سائنسی اور ماحولیاتی اہمیت کو کم کرتا ہے بلکہ ایک حساس ایکو سسٹم پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے کا خطرہ بھی بڑھا دیتا ہے۔
جزیرۂ استولا، جو بحیرہ عرب میں بلوچستان کے ساحل سے دور واقع ہے، پاکستان کا پہلا باضابطہ میرین پروٹیکٹڈ ایریا (Marine Protected Area – MPA) ہے، جسے 2017 میں حکومت پاکستان نے نامزد کیا۔ اس کی اہمیت محض سیاحتی مقام کے طور پر نہیں بلکہ ایک نازک اور قیمتی ماحولیاتی نظام (fragile ecosystem) کے طور پر ہے، جسے سائنسی تحقیق بھی ثابت کرتی ہے۔
استولا کا ماحولیاتی نظام منفرد ہے کیونکہ یہاں خشکی اور سمندر کے درمیان ایک حساس توازن موجود ہے۔ یہ جزیرہ مختلف نایاب اور خطرے سے دوچار انواع کے لیے مسکن فراہم کرتا ہے۔ سبز کچھوا اور ہاکس بل کچھوا یہاں انڈے دینے آتے ہیں، جبکہ ڈالفن اور دیگر سمندری مخلوقات اس کے گرد پانیوں میں پائی جاتی ہیں۔ اسی طرح یہ جزیرہ مہاجر پرندوں کے لیے بھی ایک اہم پڑاؤ ہے، جو اسے حیاتیاتی تنوع (biodiversity hotspot) بناتا ہے۔
ماحولیاتی تحقیق، خصوصاً IUCN اور WWF-Pakistan کی رپورٹس کے مطابق، استولا کے گرد مرجانی چٹانیں (coral communities) اور سمندری گھاس کے میدان (seagrass beds) نہایت اہم ہیں۔ یہ نہ صرف سمندری حیات کے لیے خوراک اور پناہ گاہ فراہم کرتے ہیں بلکہ کاربن ذخیرہ کرنے (blue carbon ecosystems) میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
ایک میرین پروٹیکٹڈ ایریا کے طور پر استولا کا مقصد حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، ماہی گیری کو منظم کرنا، اور انسانی مداخلت کو محدود رکھنا ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر منظم سیاحت، کشتیوں کی آمدورفت، پلاسٹک آلودگی، اور غیر قانونی ماہی گیری اس نازک نظام کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اگر اسے “نیا مالدیپ” بنانے کی کوشش کی گئی تو یہ غیر پائیدار ترقی (unsustainable development) کا باعث بن سکتی ہے، جس سے مرجانی چٹانیں تباہ، کچھوؤں کے nesting sites متاثر، اور پورا ایکو سسٹم غیر متوازن ہو سکتا ہے۔
اسی لیے عالمی سطح پر MPA ماڈل میں “کم سے کم مداخلت” (minimum human interference) کو ترجیح دی جاتی ہے، جیسا کہ United Nations Environment Programme کی گائیڈ لائنز میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ استولا کی اصل قدر اس کے قدرتی توازن، حیاتیاتی تنوع، اور سائنسی اہمیت میں ہے—نہ کہ بڑے پیمانے کی سیاحت میں۔
مختصراً، جزیرۂ استولا پاکستان کے لیے ایک ماحولیاتی اثاثہ ہے، جسے تحقیق، پالیسی اور مقامی کمیونٹیز کی شراکت سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ اسے سیاحتی نعرہ بنانے کے بجائے ایک “زندہ لیبارٹری” کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے، جہاں قدرتی نظام اپنی اصل حالت میں برقرار رہ سکے۔