آج صبح کی خبریں دیکھیں یا اخبار اٹھائیں کل بھی یہ خبریں تھیں کہ امریکی وفد اسلام آباد پہنچ رہا ہے ۔ جس کی بھر پور تیاریاں ہماری حکومت نے کر لیں ہیں ۔ اسلام آباد کو بند کر دیا گیا ہے ۔ شہر میں دوسرے شہروں سے عوامی سواریاں بند ہیں ۔ ہوٹل بک ہیں اور مقامی شہری کسی حد تک تنگ ہو رہے ہیں ۔ لیکن آبھی بھی سوال یہ ہی ہے کہ ایران مذاکرات کی میز تک آسکے گا یا نہیں ۔
BREAKING: Tehran claims it has received intelligence information indicating that the United States and Israel are preparing for a surprise attack on Iran.
— Iran News 24 (@IRanMediaco) April 19, 2026
تازہ ترین اطلاعات یہ ہی ہیں کہ امریکا کہ ایرانی کارگو جہاز کو قبضے میں لے کر جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی کی ہے ۔ یعنی مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر غیر یقینی اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ جہاں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لیں تو کہہ سکتے ہیں کہ عالمی تعلقات اس وقت ایک تناو کی صورت میں کھنچے ہوئے ہیں ۔ خصوصاً آج صبح کے تازہ حملے میں جس میں ایرانی بحری جہاز کوامریکی تحویل میں لیے گیاہے۔اس نئے اس تنازع کو ایک نئے اور زیادہ حساس مرحلے میں پہنچا دیا ہے۔ الجزیرہ کی لائیو کوریج کے مطابق تہران نے اس اقدام کو “سمندری قزاقی” قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کی ایک اہم گزرگاہ ہے، ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس علاقے میں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ دنیا بھر کی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ اس کی بحری کارروائیاں خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں، جبکہ ایران انہیں اپنی خودمختاری پر حملہ تصور کرتا ہے۔ یہی تضاد اس بحران کی بنیادی جڑ بن چکا ہے۔
دوسری جانب سفارتی محاذ پر بھی صورتحال واضح نہیں۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، لیکن ابھی بھی اہم اختلافات موجود ہیں اور کوئی حتمی معاہدہ قریب نہیں۔ یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بظاہر جاری مذاکرات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان بدستور قائم ہے۔
برطانیوی ریڈو کے میڈل ایسٹ سائٹ کی رپورٹ میں اس کشیدگی کو وسیع تر علاقائی تناظر میں دیکھا گیا ہے، جہاں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تناؤ بھی اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ تنازع پھیلتا ہے تو یہ ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس میں متعدد طاقتیں شامل ہو سکتی ہیں۔
تجزیاتی طور پر دیکھا جائے تو ایران کے اندر بھی پالیسی کے حوالے سے تقسیم موجود ہے۔ ایک طرف سخت گیر حلقے ہیں جو امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے سمجھوتے کو قومی مفادات کے خلاف سمجھتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو معاشی دباؤ اور عالمی تنہائی سے نکلنے کے لیے مذاکرات کو ضروری سمجھتے ہیں۔ یہی داخلی تضاد ایران کی خارجہ پالیسی کو پیچیدہ بناتا ہے اور مذاکراتی عمل کو سست کر دیتا ہے۔
امریکا کی حکمت عملی بھی کم متضاد نہیں۔ وہ ایک طرف ایران پر معاشی اور عسکری دباؤ بڑھا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف سفارتکاری کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی بات بھی کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ “دباؤ اور مذاکرات” کی پالیسی وقتی طور پر تو مؤثر ہو سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں یہ اعتماد سازی کے عمل کو نقصان پہنچاتی ہے۔
اس ساری صورتحال میں توانائی کی سیاست ایک اہم عنصر کے طور پر سامنے آتی ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اور اگر یہاں کشیدگی بڑھتی ہے تو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔ اس کا براہ راست اثر ترقی پذیر ممالک، خصوصاً پاکستان جیسے ممالک پر پڑ سکتا ہے، جہاں پہلے ہی معاشی دباؤ موجود ہے۔

خطے کے دیگر ممالک بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ خلیجی ریاستیں کسی بھی ممکنہ تصادم سے بچنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ عالمی طاقتیں اس بحران کو قابو میں رکھنے کے لیے پس پردہ سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔ تاہم، اب تک کوئی ایسا واضح فریم ورک سامنے نہیں آیا جو اس تنازع کے پائیدار حل کی ضمانت دے سکے۔
اگر موجودہ حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ دونوں فریق ایک “کنٹرولڈ کشیدگی” کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں—یعنی مکمل جنگ سے گریز کرتے ہوئے ایک دوسرے پر دباؤ برقرار رکھنا۔ لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اس قسم کی حکمت عملی ہمیشہ خطرات سے خالی نہیں ہوتی، کیونکہ ایک چھوٹا سا واقعہ بھی بڑے تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔
دیکھا جائے تو ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ بحران صرف دو ممالک کے درمیان تنازع نہیں بلکہ ایک وسیع جغرافیائی اور معاشی مسئلہ ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہتی ہیں تو یہ کشیدگی نہ صرف خطے میں عدم استحکام کو بڑھائے گی بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک نئے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ ایسے میں فوری اور مؤثر سفارتکاری ہی وہ واحد راستہ ہے جو اس بڑھتے ہوئے تنازع کو ایک بڑے تصادم میں تبدیل ہونے سے روک سکتی ہے۔