بیجنگ میں ہونے والی ایک منفرد نصف میراتھن میں انسانوں اور مشینوں کے درمیان مقابلہ اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن گیا جب انسانی شکل کے روبوٹس نے حیران کن کارکردگی دکھاتے ہوئے کئی انسانی دوڑنے والوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ Reuters اور دیگر عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مقابلہ چین کی تیزی سے ترقی کرتی روبوٹکس ٹیکنالوجی کا عملی مظاہرہ بن گیا۔
رپورٹس کے مطابق درجنوں ہیومنائیڈ روبوٹس نے 21 کلومیٹر طویل ریس میں حصہ لیا، جن میں سے کئی نے نہ صرف کامیابی سے ریس مکمل کی بلکہ غیر معمولی رفتار بھی دکھائی۔ ایک نمایاں روبوٹ نے تقریباً 50 منٹ میں ریس مکمل کی، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں بہت بڑی پیش رفت ہے، جب زیادہ تر روبوٹس ریس مکمل کرنے میں ناکام رہے تھے یا بہت زیادہ وقت لیا تھا۔

اس ایونٹ میں تقریباً 100 سے زائد ٹیموں نے حصہ لیا جبکہ ہزاروں انسانی رنرز بھی شریک تھے۔ اگرچہ انسان اور روبوٹس الگ الگ ٹریک پر دوڑے، لیکن دونوں کی بیک وقت موجودگی نے اسے ایک منفرد “انسان بمقابلہ مشین” تجربہ بنا دیا۔
ٹیکنالوجی کے حوالے سے یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ کئی روبوٹس نے خودکار (autonomous) طریقے سے ریس مکمل کی، یعنی انہیں کسی انسانی کنٹرول کی ضرورت نہیں تھی۔ ماہرین کے مطابق یہ مصنوعی ذہانت اور مشینی توازن (balance) کے میدان میں ایک بڑی کامیابی ہے۔
روبوٹس کی اس کارکردگی کے پیچھے جدید انجینئرنگ کا اہم کردار ہے۔ ان میں ایسے پاؤں اور جوڑ (joints) استعمال کیے گئے جو انسانی دوڑنے والوں سے متاثر ہو کر ڈیزائن کیے گئے ہیں، جبکہ ان کے اندر جدید کولنگ سسٹم بھی نصب کیا گیا تاکہ طویل دوڑ کے دوران مشین گرم نہ ہو۔
تاہم، یہ مقابلہ مکمل طور پر خامیوں سے پاک نہیں تھا۔ کئی روبوٹس دورانِ دوڑ گر گئے، کچھ راستہ بھٹک گئے جبکہ بعض کو تکنیکی خرابیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ رفتار اور استحکام میں نمایاں بہتری آئی ہے، لیکن ٹیکنالوجی ابھی مکمل طور پر قابلِ اعتماد نہیں بنی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف ایک سال پہلے اسی نوعیت کے مقابلے میں زیادہ تر روبوٹس ریس مکمل کرنے میں ناکام رہے تھے اور ان کی کارکردگی انسانی رنرز سے بہت پیچھے تھی۔ اس کے مقابلے میں 2026 کی ریس میں نمایاں بہتری نے ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایونٹ محض ایک کھیل نہیں بلکہ مستقبل کی صنعتوں کا پیش خیمہ ہے۔ ایسی ٹیکنالوجی مستقبل میں فیکٹریوں، ریسکیو آپریشنز اور خطرناک ماحول میں کام کرنے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے، جہاں انسانی جان کو خطرہ ہوتا ہے۔

چین کی حکومت بھی اس شعبے میں سرمایہ کاری اور عوامی نمائش کے ذریعے اپنی برتری ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس طرح کے ایونٹس نہ صرف تکنیکی ترقی کو تیز کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر ملک کی ساکھ کو بھی مضبوط بناتے ہیں.
مجموعی طور پر یہ مقابلہ اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کا میدان تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ اگرچہ ابھی بھی کئی چیلنجز باقی ہیں، لیکن جس رفتار سے یہ ٹیکنالوجی آگے بڑھ رہی ہے، وہ مستقبل میں انسان اور مشین کے تعلق کو مکمل طور پر بدل سکتی ہے۔