پاکستان نے اپنی بھر پور سفارتی تعلقات کا استعمال کرتے ہوئےامریکا کو راضی کر لیا ہے کہ فل حال جنگ بندی کو آگے بڑھا دیا جائے
۔ جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کر دیا ہے، تاہم امن مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں وقتی کمی ضرور آئی ہے، لیکن صورتحال اب بھی غیر یقینی اور نازک ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ امن مذاکرات کے لیے مزید وقت حاصل کیا جا سکے، تاہم اس پیش رفت کے باوجود کسی واضح پیش رفت کے آثار کم دکھائی دیتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جنگ بندی پہلے محدود مدت کے لیے طے پائی تھی، مگر اسے ختم ہونے سے پہلے بڑھا دیا گیا۔ ابتدائی طور پر اس اقدام کو بظاہر مثبت سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ براہ راست تصادم کو روکنے میں مدد دیتا ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے اس توسیع پر مکمل اور واضح ردعمل سامنے نہیں آیا، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کی کمی اب بھی برقرار ہے۔
دوسری طرف امریکہ نے جنگ بندی کے باوجود ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی مؤقف کے مطابق یہ دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جبکہ ایران اسے اشتعال انگیز اقدام قرار دیتا ہے۔ ماہرین کے نزدیک یہی تضاد مذاکرات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے، کیونکہ ایک طرف جنگ بندی اور دوسری طرف دباؤ کا تسلسل بیک وقت چل رہا ہے۔
اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات بھی غیر یقینی کا شکار ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ایران نے ابھی تک شرکت کی حتمی تصدیق نہیں کی، جبکہ اندرونی سطح پر مختلف آرا بھی سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ حلقے مذاکرات کے حق میں ہیں تو کچھ اسے وقت سے پہلے قدم قرار دیتے ہیں، جس سے ایک واضح حکمت عملی بنانا مشکل ہو رہا ہے۔

اس تمام صورتحال میں پاکستان کی سفارتی کوششیں قابلِ ذکر ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان رابطے بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی پیش رفت کے لیے بنیادی فیصلہ کن کردار انہی ممالک کا ہوگا جو براہ راست اس تنازع کا حصہ ہیں۔
مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع نے فوری کشیدگی کو کم ضرور کیا ہے، لیکن مستقل امن کے امکانات اب بھی غیر واضح ہیں۔ جب تک دونوں فریقین اعتماد سازی، دباؤ میں کمی اور سنجیدہ مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوتے، خطے میں پائیدار استحکام حاصل کرنا مشکل رہے گا۔ (ایکسپریس ٹریبیون، رائٹرز)
بطور صحافی ہمیں یہ ہی معلوم ہوا کہ اسلام آباد پہنچے والے تمام صحافی اس وقت تذبذب کا شکار ہیں آیا ٹھیریں یا کوچ کر جائیں کیونکہ امریکی اور ایرانی وفد اسلام آباد نہیں پہنچ سکے ۔ اور ایران ابھی بھی مذاکرات کی میز پر نہیں آیا ۔
یہ سب تو جانتے ہیں کہ جنگ بندی پہلے محدود مدت کے لیے کی گئی تھی، لیکن اسے اس امید پر بڑھایا گیا کہ فریقین مذاکرات کے ذریعے کسی حل تک پہنچ سکیں۔ ذرائع کے مطابق اس عمل میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کا بھی کردار رہا ہے۔
جنگ بندی کے باوجود امریکہ نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جسے ایران ایک جارحانہ قدم سمجھ رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق ایران کے اندرونی سیاسی اختلافات بھی مذاکرات میں رکاوٹ بن رہے ہیں، جس کے باعث ایک واضح اور متفقہ مؤقف سامنے نہیں آ رہا۔
مجموعی طور پر صورتحال یہ ہے کہ جنگ وقتی طور پر رکی ہوئی ہے، لیکن نہ تو مکمل امن قائم ہوا ہے اور نہ ہی مذاکرات کا مستقبل واضح ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔