loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
13-May-2026 25-Zul Qa'dah-1447
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
13-May-2026 25-Zul Qa'dah-1447

کراچی سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ صالح آصف کی اسٹارٹ اپ “کرسر” عالمی سطح پر نمایاں ہو گئی ہے۔کرسر کا ایلون مسک  کی کمپنی اسپیس ایکس  کے ساتھ 60 بلین  کا  معاہدہ طے پاگیا ہے ۔

کرسر  کے 4  طلبہ  کی کمپنی ہے ۔ جس کے کو فاونڈر  26 سالہ صالح آصف  بھی ہیں ۔  یہ  سیلکون ویلی کےکئی  اسٹارٹ اپ   روجیکٹ  کی طرح ایک  اسٹارپ  ہے ۔ جو   اے آئی کی مدد سے  کمپیوٹر کوڈنگ کو  ایڈیٹ  کرتی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق دنیا کی ہزاروں آئی ٹی کمپنیاں اس ٹول سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ان میں شاپیی فائی ،ایڈاپی اور ناوئیڈا جیسی بڑی کمپنیاں شامل ہیں۔
اسپس ایکس  نے اپنے   پوسٹ پر اس ڈیل کی   تفصیل جاری کی ہیں ۔ جس کے بعد سے  ٹیکنالو جی سے منسلک ماہرین اور ڈویلپرز کی بڑی تعداد  اس طرف متوجہ ہو ئے ہیں ۔ معاہدے کے مطابق نے “کرسر” کو خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ معاہدہ 60 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔پوسٹ  میں یہ بھی ہے کہ اگر سال کے آخر تک مکمل ادائیگی نہ ہو سکی تو اسپیس ایکس 10 ارب ڈالر دے کر شراکت داری کرے گی۔

یہ پیش رفت ٹیکنالوجی کی دنیا میں بڑی تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔ماہرین کے مطابق اے آئی کوڈنگ ٹولز مستقبل میں سافٹ ویئر انڈسٹری کا اہم حصہ بن جائیں گے۔ صالح آصف کی کمپنی کی مالیت 29 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ان کا نام فوربز کی ارب پتی افراد کی فہرست میں بھی شامل ہو گیا ہے۔

صالح آصف کا تعلق کراچی سے ہے۔انہوں نے نکسر کالج سے تعلیم حاصل کی۔بعد میں وہ میساچوٹس اسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی چلے گئے ۔ جہاں انھوں نے دوستوں کے ساتھ مل کر کمپنی آیننی اسفیر کی بیار رکھی ۔ جو سافٹ ویر اور مسقبل کی ٹیکنالوجی کو ملانے کا کام کر رہی ہے یہ ہی کمپی آگے چل کر کرسر بنی ہے۔

یہ کہانی صرف ایک نوجوان کی کامیابی نہیں۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی نوجوان عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوا سکتے ہیں۔اگر مواقع اور سہولیات فراہم کی جائیں تو ایسے کئی اور نام سامنے آ سکتے ہیں۔

اچھی بات یہ ہے کہ پاکستانی نوجوان دنیا کے امیر ترین نوجوانوں کی فہرست میں اپنا نام لکھواسکتا ہے ۔

One Response

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں

بلا جھجھک اپنے خیالات کا اشتراک کریں۔ برائے مہربانی بد زبانی استعمال کرنے سے گریز کریں۔