اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 23 اپریل کو ابوظہبی فنڈ فار ڈویلپمنٹ، متحدہ عرب امارات کو ایک ارب امریکی ڈالر کی ڈپازٹ رقم واپس کر دی ہے۔ یہ ادائیگی ملک کے مالیاتی انتظام اور بیرونی مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ رقم معاہدے کی مدت مکمل ہونے پر واپس کی گئی ہے اور تمام کارروائی طے شدہ طریقہ کار کے مطابق مکمل کی گئی۔
اس سے قبل گزشتہ ہفتے بھی اسی نوعیت کی ایک بڑی ادائیگی کی گئی تھی جس کے تحت 2.45 ارب امریکی ڈالر واپس کیے گئے۔ اس رقم کی واپسی بھی متحدہ عرب امارات کے مختلف مالیاتی تعاون اور ڈپازٹس سے متعلق تھی۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ ادائیگی بھی مکمل طور پر مقررہ شرائط کے تحت اور بروقت انجام دی گئی جس سے مالیاتی نظم و ضبط کی عکاسی ہوتی ہے۔
ان دونوں ادائیگیوں کے بعد مجموعی طور پر تین اعشاریہ 45 ارب امریکی ڈالر کے تمام ڈپازٹس کی واپسی مکمل ہو گئی ہے جو متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کو مختلف اوقات میں فراہم کیے گئے تھے۔ یہ تمام رقوم معاہدوں کے تحت قلیل اور درمیانی مدت کے مالی تعاون کے طور پر رکھی گئی تھیں اور اب ان کی مکمل واپسی عمل میں آ چکی ہے۔
مالی ماہرین کے مطابق یہ ڈپازٹس پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے میں مددگار رہے اور ان کی واپسی ایک معمول کا عمل ہے جو بین الاقوامی مالیاتی تعلقات کے تحت انجام پاتا ہے۔ ان رقوم کی موجودگی نے ماضی میں بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔
متحدہ عرب امارات پاکستان کا ایک اہم مالیاتی شراکت دار ہے اور مختلف اوقات میں اس نے ڈپازٹس اور دیگر مالی معاونت فراہم کی ہے۔ یہ تعاون دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان مالیاتی لین دین کا مقصد پاکستان کی معیشت کو استحکام دینا اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنا ہوتا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق موجودہ صورتحال میں ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مختلف ذرائع سے سہارا حاصل ہے اور مالی پالیسی کے تحت ذمہ دارانہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان ادائیگیوں کے باوجود مجموعی مالی صورتحال پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا اور مالی نظم و ضبط برقرار رکھا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مالیاتی اقدامات عالمی مالیاتی نظام کا حصہ ہیں اور ان سے ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کو فروغ ملتا ہے۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مالی تعلقات مستقبل میں بھی اسی طرح جاری رہنے کی توقع ہے۔
اسٹیٹ بینک کے حکام کے مطابق ایسے ڈپازٹس کی واپسی کا عمل مالیاتی شفافیت اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اقدامات پاکستان کی مالی ساکھ کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ اعتماد کے رشتے کو مضبوط کرتے ہیں۔ معاشی استحکام کے لیے یہ عمل اہم سمجھا جا رہا ہے۔