کراچی :اب لوگوں نے یونی ورسٹی روڈ کو اب آبنائے ہرمز سے جوڑا جارہا ہے ۔ جہاں جاتا ہوں پہلا سوال اس پر ہی ہوتا ہے ۔ وزیر اعلی سندھ ، مراد علی شاہ کا گل پلازہ کے سانحہ کے متاثرین سے خطاب
وزیراعلیٰ کا کہناتھا کہ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں گل پلازہ واقعے سے متعلق کمیشن رپورٹ پر سفارشات پیش کی جائیں گی، جبکہ اس افسوسناک سانحے پر قیمتی جانوں کے ضیاع کو بڑا نقصان قرار دیا۔
خطاب کے دوران انہوں نے بتایا کہ صدر نے بھی گل پلازہ واقعے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور دو مرتبہ چینی حکومت سے رابطہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین سے کراچی کے لیے فائر بریگیڈ کے جدید آلات کی فراہمی پر بات چیت ہوئی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اعتراف کیا کہ شہر میں سروسز پر ماضی میں مطلوبہ توجہ نہیں دی جا سکی، جس کے باعث بڑے سانحات میں نقصانات بڑھ گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتظامات بہتر ہوتے تو جانی نقصان کم ہو سکتا تھا۔
مراد علی شاہ کے مطابق کراچی میں اس وقت 300 ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں، تاہم شہر کی اصل ضرورت سالانہ 3 ہزار ارب روپے کی سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت گزشتہ 17 برس سے برسراقتدار ہے لیکن مسائل کی جڑ اس سے بھی پہلے کی ہے، اور انہیں حل کرنے میں وقت درکار ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ عظیم پورہ فلائی اوور کو 100 دن میں مکمل کیا جائے گا، جبکہ جہانگیر روڈ اور گل پلازہ کے عقب کی سڑک کی تعمیر بھی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کراچی کی پرانی مارکیٹوں کی ازسرنو بحالی کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔
میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایک چینل نے پرانا واقعہ دوبارہ نشر کیا، جس کے پیچھے ذاتی وجوہات تھیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کارروائی نہ کرے تو تنقید ہوتی ہے اور کارروائی کرے تو اسے ذاتی مفاد قرار دیا جاتا ہے۔
یونیورسٹی روڈ کی تعمیر میں تاخیر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں بھی جاتے ہیں لوگ اسی منصوبے کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تاخیر ہو سکتی ہے لیکن بدنیتی شامل نہیں ہوگی۔