اٹھائیس اسٹارٹ اپس نے کامیابی سے پروگرام مکمل کیا۔ تقریب میں حکومتی حکام، صنعت کاروں، سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی ماہرین نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے سیکریٹری ضرار ہاشم خان نے کہا کہ این آئی سی کراچی نوجوانوں کے کاروباری خیالات کو عملی شکل دینے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انکیوبیشن کا عمل صرف آئیڈیاز تک محدود نہیں بلکہ انہیں قابلِ عمل کاروبار میں تبدیل کرنے میں مدد دیتا ہے، جہاں رہنمائی، فنڈنگ اور مارکیٹ تک رسائی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے پروگرامز نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، خاص طور پر مصنوعی ذہانت، فِن ٹیک اور صنعتی خودکاری جیسے شعبوں میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کاروباری مہارت، قیادت اور پائیدار ماڈلز کی تشکیل میں بھی مدد ملتی ہے، جو ملکی معیشت کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔
این آئی سی کراچی، جو 2018 میں قائم کیا گیا، اگنائٹ کے تعاون سے چلنے والا ایک انکیوبیشن سینٹر ہے، جسے نجی شراکت داروں ایل ایم کے ٹی، لکی لینڈ مارک اور آربٹ وینچرز کے اشتراک سے آپریٹ کیا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، این آئی سی کراچی اب تک 440 سے زائد اسٹارٹ اپس کو انکیوبیٹ کر چکا ہے، جنہوں نے 12 ارب روپے سے زائد آمدن پیدا کی اور 13 ارب روپے سے زیادہ سرمایہ کاری حاصل کی۔ ان اسٹارٹ اپس کے ذریعے ہزاروں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں، جو ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں۔
تقریب میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسٹارٹ اپس کو قانونی رہنمائی، سرمایہ کاروں تک رسائی، فِن ٹیک، ای کامرس، اور جدید ٹیکنالوجی لیبارٹریز تک سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، تاکہ وہ عالمی معیار کے مطابق اپنی مصنوعات تیار کر سکیں۔
آخر میں گریجویٹ ہونے والے اسٹارٹ اپس میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ این آئی سی کراچی آئندہ بھی نوجوانوں کو بااختیار بنانے، جدت کو فروغ دینے اور پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔