کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں گزشتہ ہفتے منفی رجحان دیکھنے میں آیا، جہاں جغرافیائی اور معاشی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔ خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں تاخیر نے مارکیٹ پر دباؤ بڑھایا، جس کے نتیجے میں سرمایہ کار محتاط دکھائی دیے۔
ہفتہ وار بنیادوں پر KSE-100 انڈیکس میں 3 ہزار 267 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، جو تقریباً 2 فیصد تنزلی کے برابر ہے۔ ہفتے کے اختتام پر انڈیکس 170,672 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ اس دوران مارکیٹ میں نمایاں اتار چڑھاؤ بھی دیکھنے میں آیا، جہاں انڈیکس کی بلند ترین سطح 175,298 پوائنٹس جبکہ کم ترین سطح 166,380 پوائنٹس رہی۔
سرمایہ کاروں کو اس ہفتے بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، اور مجموعی طور پر 372 ارب 69 کروڑ روپے کی مالیت کم ہو گئی۔ اسی طرح مارکیٹ کی مجموعی کیپیٹلائزیشن بھی 373 ارب روپے کی کمی کے بعد 18 ہزار 877 ارب روپے تک محدود ہو گئی۔
تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو اوسط یومیہ شیئرز کا حجم 16.2 فیصد اضافے کے ساتھ 1.2 ارب شیئرز تک پہنچ گیا، تاہم اس کے برعکس اوسط یومیہ تجارتی مالیت 5.7 فیصد کمی کے بعد 16 کروڑ 35 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق خطے کی سیاسی صورتحال اور عالمی معاشی دباؤ کے باعث سرمایہ کاروں نے محتاط حکمت عملی اپنائی، اور آئندہ دنوں میں مارکیٹ کی سمت کا انحصار بیرونی حالات اور پالیسی فیصلوں پر ہوگا۔