loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
13-May-2026 25-Zul Qa'dah-1447
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
13-May-2026 25-Zul Qa'dah-1447

پاکستان میں چینی کی قیمتوں ایکسپورٹ شگرملزمالکان اور شگر کارٹیل سے متعلق تو آپ تقریبا روز خبریں، تبصرے اور تخمینے سنتے دیکھتے اور رہتے ہوں گے لیکن ‘ دو خبر’ آپ کے سامنے ایسے دلچسپ حقائق ،تخمینے اور  اعدادوشمار  پیش کر رہا ہے   جو کے زریعے آپ  چینی کی قیمتیں ، شگرملزمالکان اور اس شعبے کی کارٹیلائزیشن کے سارے اسباب کو آسان انداز میں سمجھ سکیں گے۔
رپورٹ میں  اس بات کا بھی جائزہ لیاگیاہے کہ آخر پاکستان میں چینی کی پیداوار، کھپت اور برآمدات کے فیصلے کس طرح عام شہری کی جیب اور صحت دونوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

حال ہی میں پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک خط کے زریعے اعدادوشمار وفاقی حکومت کو ارسال کیے جس کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ 7لاکھ 67ہزار میٹرک ٹؐن اضافی چینی ایکسپورٹ کردی جائے۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کے مطابق موجودہ کرشنگ سیزن کے بعد ملک بھر میں شوگر ملز کے پاس 7.6ملین میٹرک ٹن چینی کی پیداوار ہوئی ہے جبکہ جون 2026تک چقندر سے مزید 0.086ملین میٹرک ٹن چینی ملنے کا امکان ہے جبکہ 0.271ملین میٹرک ٹن کیری اوور اسٹاک بھی موجود ہے مجموعی طور پر شوگر ملزکے پاس 7.958ملین میٹرک ٹن چینی کے ذخائر موجود ہیں
پاکستان شوگرملز ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ سال پاکستان میں چینی کی سالانہ کھپت 6.476ملین میٹرک ٹن یعنی 64لاکھ 76ہزار کلو رہی اور اس سال پاکستان میں چینی کی ضرورت قریبا 6.638ملین میٹرک ٹن یعنی 1لاکھ 62ہزار ٹن اضافہ ہوا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 2.5فیصد اضافہ ہے یعنی اگلے بارہ مہینوں میں پاکستان میں گھریلو اور صنعتی سطح پر مجموعی طور پر چھ ارب 63کروڑ کلو چینی استعمال ہوگی پاکستان کی مجموعی آبادی 240ملین یعنی 24کروڑ نفوس کے اعتبار سے اگلے بارہ مہینوں میں ہر پاکستانی اوسطا 27کلو سالانہ چینی استعمال کرے گااورہرمہینے ہر پاکستانی 2.3کلواور یومیہ 70-75گرام چینی استعمال کرے گا۔

خبردو’ کی خصوصی رپورٹ میں شامل تخمینے کے مطابق اگرپاکستان میں چینی کی فی کلو قیمت 150روپے کا تعین کیاجائے تو اس حساب سے ہر پاکستانی سالانہ 4140روپے کی چینی کھائے گا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں پاکستانی سالانہ 16.2کروڑ کلو اضافی چینی استعمال کریں گے جو عالمی ادارہ صحت کے معیارات کے برعکس 75 گرام ہے جو بہت زیادہ ہے۔2024 -25کے ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں تقریبا 3کروڑ45افراد ذیابیطس کا شکار ہیں اسی طرح اگر چینی کی سالانہ کھپت پاکستانیوں کی عمر کے اعتبار سے دیکھاجائے توپاکستان میں چینی کا یومیہ فی فرد استعمال 120گرام تک ہے جبکہ عالمی معیار25-50گرام ہے۔


پاکستان شوگر ملزایسوسی ایشن کے تخمینوں کے مطابق اگلے بارہ مہینوں مین پاکستانی 1کروڑ 35لاکھ کلو ماہانہ یا 4لاکھ 44ہزار کلو یومیہ اضافی چینی استعمال کریں گے۔ پاکستان میں سال بھر اگر چینی کی اوسط قیمت 165روپے فی کلو لگائی جائے تو اگلے بارہ مہینوں میں پاکستانی شگرملز کی پیداوار 1100ارب روپے کی چینی استعمال کریں گے گزشتہ سال یہ رقم 1.10ٹریلین تھی اگلے بارہ ماہ میں پاکستان میں 26.7ارب روپے کی اضافی چینی استعمال ہوگی

 300 ارب ÷ 2.7 ارب  =تقریباً 111 دن

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں

بلا جھجھک اپنے خیالات کا اشتراک کریں۔ برائے مہربانی بد زبانی استعمال کرنے سے گریز کریں۔