امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور مذاکرات میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی پڑرہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ 107 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ امریکی خام تیل بھی 96 ڈالر کے قریب پہنچ گیا ہے۔
یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا جب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور نہ ہو سکا اور آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی، جو عالمی سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو عالمی سطح پر توانائی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس سے ترقی پذیر ممالک زیادہ متاثر ہوں گے۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے کیونکہ ملک اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے۔تیل کی قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف درآمدی بل بڑھتا ہے بلکہ روپے پر دباؤ، مہنگائی میں اضافہ اور عوامی اخراجات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ایندھن مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ، بجلی اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں، جس کا براہِ راست اثر عام شہری پر پڑتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں تیل مہنگا رہا تو پاکستان میں مہنگائی دوبارہ تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔
مجموعی طور پر ایران-امریکہ کشیدگی صرف عالمی سیاست تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات پاکستان کی معیشت، مہنگائی اور روزمرہ زندگی پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔