loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
13-May-2026 25-Zul Qa'dah-1447
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
13-May-2026 25-Zul Qa'dah-1447

پاکستان میں طویل عرصے بعد شرحِ سود میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک آج اپنی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا۔ گورنر جمیل احمد کی زیر صدارت مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کا اجلاس جاری ہے، جس میں اہم معاشی اشاریوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

مرکزی بینک اس وقت پالیسی ریٹ 10.5 فیصد پر برقرار رکھے ہوئے ہے، جو گزشتہ کئی ماہ سے یا تو کم کیا گیا یا اسی سطح پر رکھا گیا ہے۔اس سے قبل دسمبر 2025 میں شرح سود میں 50    بنیادی پوائنٹس کمی کی گئی تھی، جس کے بعد سے شرح کو مستحکم رکھا گیا۔

ذرائع کے مطابق موجودہ اجلاس میں خام تیل کی عالمی قیمتوں، مہنگائی کے رجحان اور روپے کی قدر سمیت بیرونی کھاتوں کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نے معاشی غیر یقینی صورتحال کو بڑھا دیا ہے، جس کا براہِ راست اثر پاکستان پر بھی پڑ رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس بار اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ میں 50 سے 100 بیس پوائنٹس تک اضافہ کر سکتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق تقریباً 19 فیصد ماہرین 50 بیسس پوائنٹس جبکہ 17 فیصد 100 بنیادی پوائنٹس اضافے کی توقع رکھتے ہیں، تاہم اکثریت اب بھی شرح کو برقرار رکھنے کے حق میں ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، جو دوبارہ 9 فیصد کے قریب جا سکتی ہے، اور درآمدی ایندھن پر انحصار شرح سود میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک کا بنیادی مقصد مہنگائی کو کنٹرول کرنا اور معاشی استحکام کو یقینی بنانا ہے، جبکہ موجودہ فیصلے کا اثر نہ صرف بینکاری نظام بلکہ سرمایہ کاری، قرضوں اور عام شہری کی مالی صورتحال پر بھی پڑے گا۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں

بلا جھجھک اپنے خیالات کا اشتراک کریں۔ برائے مہربانی بد زبانی استعمال کرنے سے گریز کریں۔