loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
13-May-2026 25-Zul Qa'dah-1447
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
13-May-2026 25-Zul Qa'dah-1447

پچھلے ہفتے ہمارے جیو کے ساتھی منظر الٰہی کی ایک فیس بک پوسٹ نظر سے گزری۔ انہوں نے ڈسکوری کی ایک پوسٹ شیئر کی تھی جس میں سائنس جریدے میں شائع ہونے والی ایک دلچسپ تحقیق کا حوالہ دیا گیا تھا۔

 کہانی پڑھ کر واقعی حیرت بھی ہوئی اور ایک طرح کا تجسس بھی جاگا ہیں بھائی یہ کسی جنگل کی کہانی ہے یاہماری دنیا کی ۔ ایسا لگا جیسے جنگل کی دنیا میں بھی وہی کچھ ہو رہا ہے جو ہم اپنے اردگرد انسانی معاشرے میں دیکھتے ہیں یعنی طاقت کی کشمکش، گروہ بندی اور ٹوٹتے ہوئے رشتے۔

ڈسکوری کی اسٹوری سائنس میگزین کی ایک تحقیق پر ممبنی تھی ۔ جس کے مطابق افریقہ کے مشرقی ملک یوگنڈا کے کبالے نیشنل پارک میں چمپینزیوں کی ایک بڑی کمیونٹی، جسے نیگاگو گروہ کا نام دیا گیا ہے۔ محقین کے مشاہدہ میں آیا کہ یہ گروہ گزشتہ 3 سالوں کے اندر اندر دو مخالف دھڑوں میں تقسیم ہو گیا۔ دلچسپی کی بات یہ تھی کہ ہر گروہ میں  تعداد برابر برابر تھی یعنی دونوں چمپینزیوں کے گروہ میں تقریباً 150سے 200 چمپینزی تھے ۔

لڑائی سے پہلےتمام چمپینزی  طویل عرصے سے ایک ساتھ تھے۔ ایک ہی سماجی ڈھانچے کے تحت رہ رہے تھے۔ ان کی زندگی ۔میں وقتی بکھراؤ اور دوبارہ جڑنے کا ایک فطری سا نظام تھا،یعنی وقتی لڑایاں ہوئی لیکن پھر مل بیٹھے لیکن یہ توازن وقت کے ساتھ بگڑتا چلا گیا

چمپیزنییوں کی زندگیوں میں  توازن کیوں؟ اور کب بگڑناشروع ہوا؟۔ تحقیق  اس کا کیوں اور کب کا جواب کچھ اس طرح دیتی ہے  کہ 2015 کے آس پاس ان کی آپس کے  تعلقات  بدلنا شروع ہوئے۔

سائنس میگزین کی تحقیق یہ بھی بتاتی کہ  چمپینزیوں کی دنیا میں قیادت صرف ایک عہدہ نہیں ہوتی بلکہ پورے سماجی توازن کی علامت ہوتی ہے۔ جب یہ توازن بدلتا ہے تو تعلقات بھی بدلنے لگتے ہیں۔آہستہ آہستہ گروہ کے اندر فاصلے بڑھنے لگے۔ جو چمپینزی پہلے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہتے تھے، وہ الگ الگ گروہوں میں بٹنے لگے۔ 2018 تک یہ تقسیم مکمل ہو چکی تھی اور دونوں دھڑوں کے درمیان سماجی تعلق تقریباً ختم ہو گیا تھا۔یعنی 3 سال کے اندر اندر ان کی ذندگیاں   دو الگ الگ گروہ میں بٹ گئیں۔

پھر وہ وقت آیا جب یہ خاموش تقسیم کھلی دشمنی میں بدل گئی۔ تحقیق کے مطابق چھوٹے گروہ نے بڑے گروہ پر منظم حملے شروع کیے۔ ان حملوں میں بالغ نر چمپینزیوں کو نشانہ بنایا گیا اور بعض انتہائی افسوسناک واقعات میں نوزائیدہ بچوں پر بھی حملے رپورٹ ہوئے۔ یہ سب کسی اچانک جذباتی ردعمل کے بجائے ایک طویل سماجی کشمکش کا نتیجہ لگتا ہے۔

مجھے یہ سب پڑھتے ہوئے ایک عجیب سا احساس ہورہا تھا ۔ جیسے ہم کسی جنگل یا نیشنل پارک کی کہانی کو نہیں بلکہ یہ ہمارے آس پاس کی کوئی کہانی یا ٹی وی پر چلنے والا ڈرامے ہو۔ طاقت کی جنگ، گروہ بندی، قیادت کا بحران اور پھر تشدد، ان سب قصوں سے تو ہماری انسانی تاریخ بھری پڑی ہے ۔ جس میں نا باپ نے بیٹے کو دیکھا ہے اورناہی بیٹے نے  باپ کا لحاظ رکھا ۔ بلکہ تازہ مثال،  ہمارے اپنے شہر   کراچی کی انڈر ولڈ کی کہانیاں ہیں  یا  انڈین ڈان مافیا والی فلمیں  جس میں مخالفت کامطلب موت ہے ۔

ایک زمانے میں ہمیں ذولوجسٹ  بننے کا شوق چڑھا تھا خاص کر جب ہم گریجویشن میں ہمارے پاس بائیو کیمسٹری کے ساتھ  بوٹنی اور ذولوجی تھی۔کل بھی اور آج بھی  نیشنل جیوگرافک دیکھنے میں مزہ آتا ہے او انیمل پلانٹ کی ڈاکومنٹری اچھی لگتی ہے۔کالج اور یونی ورسٹی کے زمانے میں  دل میں ایک خواہش ہوتی تھی کہ کاش ہم بھی کسی ایسی ریسرچ کا حصہ ہوتے، جنگلوں میں جاتے، جانوروں کے رویے کو قریب سے دیکھتے اور انسانی دنیا کے شور سے کچھ دور قدرت کے قریب رہتے۔ شاید وہ دنیا زیادہ سادہ اور زیادہ پر سکون لگتی تھی۔

یہی وجہ ہے کہ یہ کہانی پڑھ کر ایک سوال بار بار ذہن میں آتا ہے کہ آخر کون سی دنیا بہتر ہے؟ وہ جسے ہم جنگل کہتے ہیں، جہاں جانور اپنی جبلت کے مطابق زندہ رہتے ہیں، یا وہ جسے ہم تہذیب کہتے ہیں، جہاں انسان قوانین اور نظام کے ساتھ رہتے ہیں لیکن اندرونی طور پر طاقت کی وہی کشمکش جاری رہتی ہے؟

صحافت کے دنوں میں جب کراچی چڑیا گھر پر کچھ اسٹوریز کیں تو وہاں کے زولوجسٹ سے بھی اسی طرح کے سوالات کیے۔ کیا آپ ان جانوروں کے رویوں پر کوئی تحقیق کرتے ہیں؟ کیا یہ بھی انسانوں کی طرح اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں؟ مگر زیادہ تر جواب حوصلہ افزا نہیں تھے۔ یا تو وہ سوال کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتے تھے یا اس طرح کی کوئی باقاعدہ تحقیق وہاں موجود ہی نہیں تھی۔

تب احساس ہوا کہ ہمارے ہاں جانوروں کی دنیا کو سمجھنے کا وہ سائنسی اور منظم طریقہ ابھی تک بہت محدود ہے، حالانکہ باہر کی دنیا میں انہی رویوں کو سمجھنے کے لیے پوری پوری ریسرچ چل رہی ہے۔

اور اب جب یہ تحقیق سامنے آتی ہے تو لگتا ہے جیسے جنگل اور شہر کے درمیان فاصلہ شاید اتنا زیادہ نہیں جتنا ہم سمجھتے تھے۔

پھر سوال یہ بھی بنتا ہے کہ کیا ہم نے چمپینزیوں سے کچھ سیکھا ہے یا وہ ہم سے سیکھ رہے ہیں؟ یا شاید یہ دونوں ہی ایک ہی بڑے سچ کا حصہ ہیں کہ قدرت کے نظام میں طاقت، بقا اور غلبے کی کشمکش عام بات ہے۔ لیکن ہمارے شہر کراچی میں اندرورلڈمافیا کی کہانیاں اس سے زیادہ ہولناک ہیں ۔

One Response

  1. Instances of such stories are not lacking in History of founding kingdoms and Inv aders and concqourers . Two I remember one of Zahiruddin Baber who perforce of rivalry at home in Faraghna had to flee to find chance elsewhere and invaded towards South East. Likewise Founder of Bhopal State Doust Mohammad Khan moved from his tribe to newly established Pathan towns around Shahjahanpore where to he found no prospects he moved to Central Indian penshula to find place among rivalries there . Hence the rule of nature is that there’s always vacant place at the top for fitest who survive untill remain fitest

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں

بلا جھجھک اپنے خیالات کا اشتراک کریں۔ برائے مہربانی بد زبانی استعمال کرنے سے گریز کریں۔