loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
13-May-2026 25-Zul Qa'dah-1447
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 27°C
13-May-2026 25-Zul Qa'dah-1447

حکومت پاکستان صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے پاکستانی شہریوں کی رہائی کے لیے سرگرم ہے اور اس سلسلے میں سفارتی و دیگر ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔ یہ بات سندھ کے گورنر نیہال ہاشمی نے ایک بیان میں کہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کو تنہا نہیں چھوڑا گیا اور ان کی بحفاظت واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ ادارے اس معاملے پر مسلسل کام کر رہے ہیں اور پیش رفت کے لیے مختلف سطحوں پر رابطے جاری ہیں۔

پس منظر میں حال ہی میں صومالیہ کے قریب ایک آئل ٹینکر کو اغوا کیے جانے کا واقعہ سامنے آیا تھا، جس میں 11 پاکستانی عملے کے ارکان بھی شامل تھے۔اس واقعے کے بعد حکومت نے فوری طور پر متعلقہ وزارتوں، دفتر خارجہ اور بحریہ کو متحرک کیا تاکہ یرغمالیوں کی رہائی یقینی بنائی جا سکے۔

گورنر سندھ نے کہا کہ پاکستانی شہریوں کی جانوں کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہے اور اس معاملے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نہ صرف قریبی نگرانی کر رہی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ اس مسئلے کا جلد حل نکالا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق دفتر خارجہ صومالی حکومت اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے، جبکہ بحری سکیورٹی ادارے بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں.

ماہرین کا کہنا ہے کہ صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقی کے واقعات ایک بار پھر بڑھ رہے ہیں، جہاں جہازوں کو اغوا کر کے عملے کو یرغمال بنایا جاتا ہے اور تاوان طلب کیا جاتا ہے۔ایسے حالات میں یرغمالیوں کی رہائی عموماً پیچیدہ اور طویل سفارتی عمل کا تقاضا کرتی ہے۔

حکام کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ تمام پاکستانی شہریوں کو بحفاظت وطن واپس لایا جائے، جبکہ اس حوالے سے پیش رفت سے متعلق مزید تفصیلات مناسب وقت پر سامنے لائی جائیں گی۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں

بلا جھجھک اپنے خیالات کا اشتراک کریں۔ برائے مہربانی بد زبانی استعمال کرنے سے گریز کریں۔