کل رات کی اہم ترین خبر یہ ہی تھی کہ متحدہ عرب امارات تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے الگ ہو رہا ہے۔ جسے عالمی توانائی سیاست میں ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ جاری تنازع کے باعث خلیجی خطے سے تیل کی ترسیل شدید متاثر ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے سبب برآمدات میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
اماراتی حکام کے مطابق یہ فیصلہ قومی مفادات کو ترجیح دینے کے تحت کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپنی توانائی پالیسی کو آزادانہ طور پر تشکیل دینا چاہتی ہے تاکہ عالمی منڈی کی ضروریات کے مطابق تیل کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو برقرار رکھا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق امارات طویل عرصے سے اوپیک کی جانب سے عائد پیداوار کی حدود سے نالاں تھا، کیونکہ وہ اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانا چاہتا ہے۔ موجودہ حالات میں، جب عالمی سطح پر توانائی کی طلب اور رسد دونوں غیر یقینی کا شکار ہیں، امارات اپنے وسائل سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ فیصلہ اوپیک کے لیے ایک بڑا نقصان سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ متحدہ عرب امارات تنظیم کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل تھا۔ اس کے نکلنے سے تنظیم کی عالمی منڈی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت کمزور ہو سکتی ہے اور تیل کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
دوسری جانب ایران کے ساتھ جاری جنگ اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی نے پہلے ہی عالمی توانائی نظام کو دباؤ میں ڈال رکھا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ایسے فیصلے جاری رہے تو نہ صرف اوپیک کی وحدت متاثر ہوگی بلکہ عالمی تیل منڈی میں طویل مدتی عدم استحکام بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
مجموعی طور پر امارات کا اوپیک سے علیحدگی اختیار کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خلیجی ممالک اب اجتماعی حکمت عملی کے بجائے انفرادی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے عالمی توانائی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔