لاہور کی ایک خاموش مگر جدید لیبارٹری میں ایک ایسی تحقیق جاری ہے جو مستقبل کی فضائی دنیا کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ لائن کسی ڈرامے کا حصہ نہیں بلکہ یہ حقیقی کہانی ہے۔ جس کا بنیادی کردار ، ایرو اسپیس انجیئنر سارہ قیریشی ہیں ۔ 26اپریل کو دنیا بھرمیں عالمی پائلٹ ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ اس دن ہم سب کے سوشل میڈیا پر ایک نام بار بار آتا رہا وہ نام ڈاکٹر سارہ قریشی کا تھا۔
سارہ کا کارنامہ کوئی چھوٹا موٹا نہیں بلکہ ایروسائنس کی دنیامیں سارہ نئی جہتیں اور اپنے لئے الگ راستے تلاش کر رہی ہیں ۔ کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کسی بھی ہوائی سفر میں کسی بھی فلائیٹ کو منتخب کرتے ہوئے اس کی ٹکٹ کی قیمت ، سفر کی طوالت کے ساتھ کا ربن ڈائی اکسائیڈ کا کا اخراج بھی واضح انداز میں درج ہوتا ہے ۔ آج کی دنیا میں جس تیزی سے موسمیاتی تبدیلیاں وقع پزیر ہو رہی ہیں ۔ اس میں انسانی زندگیوں سے کاربن ڈائی اکسائیڈ کے اخراج کو روکنے کی یا کم کرنے کی مکمل کوششیں کی جارہی ہیں ۔
#HappyNewYear2026 Wrapping up 2025 with this recognition. I was listed among the 100 Asian Scientist for 2025 in the Aerospace & Astronomy Category. Full Link: https://t.co/1Lkzu6mMyp #HappyNewYear @asianscientist pic.twitter.com/pDDbl74pzY
— Sarah Qureshi (@AeroEngineCraft) December 31, 2025
سارہ دنیا کی وہ پہلی سائنسدان ہیں جنہوں نے جہاز سے نکلے والے دھویں کے بادلوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی ۔ ایرو اسپیس سائنس کی دنیا کو نئی جہت دینے والی سارہ نے فضائی آلودگی اور ماحولیات کوکے ایک ایسے مسئلے پر کام شروع کیا ہے جسے دہائیوں سے دنیا کے بڑے سائنسدان مکمل طور پر حل نہیں کر سکے ہیں۔
ڈاکٹر سارہ قریشی کی کہانی صرف ایک سائنسی تحقیق تک محدود نہیں۔ وہ پاکستان میں خواتین کے لیے بھی ایک اہم مثال ہیں، خاص طور پر ان شعبوں میں جہاں مردوں کی برتری زیادہ رہی ہے۔ ان کی کوششوں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا ہے، اور انہیں پاکستان کے سول اعزاز تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا ہے۔آج وہ اپنی کمپنی ایرو انجن کرافٹ پرائیوٹ لمیٹیڈ کی بانی ہیں ۔
آئیں جانتے ہیں کہ لاہور سے تعلق رکھنے والی نوجوان سارہ نے یہ سفر کیسے طے کیا ۔ انھوں نے 2001میں نسٹ سے انجئنرنگ کی ڈگری حاصل کی ۔ اس کے بعد وہ سارہ قریشی سے ڈاکٹر سارہ قریشی بنے کے لئے برطانیہ کی معروف کرین فلیڈ یونی ورسٹی سے حاصل کی، جہاں سارہ نے ایرو اسپیس پروپلشن کے پیچیدہ شعبے میں تحقیق کی ۔
یہ وہ ہی چیز ہے جیسے عرف عام میں ہم جہاز سے نکلتا دھواں کہتے ہیں ۔ اپنی تحقیق میں سارا کا کام بنیادی طور پر جہاز کے انجن، ایندھن کے استعمال اور فضا میں اس کے اثرات کے گرد گھومتا ہے۔ وقت کے ساتھ ان کی دلچسپی ایک خاص مظہر کی طرف بڑھتی گئی، جسے کنٹریل کہا جاتا ہے۔

ہم سب خاص کر ملینیل نے اپنے اپنے بچپن میں آسمان میں اڑتے جہاز کو ٹاٹا ضرور کہا ہے ۔ جب یہ سب یاد ہے تو ہمیں جہاز سے نکتا سفید دھواں بھی یاد ہوگا۔ فضا میں بلند پرواز کرتے ہوئے جہاز کے پیچھے جو سفید دھاریاں نظر آتی ہیں، انہیں سائنسی اصطلاح میںکنٹرائیل کہا جاتا ہے۔ ہم سب کو ہی عام طور پر یہ منظر خوبصورت لگتا ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ صرف بخارات نہیں بلکہ باریک برفانی ذرات پر مشتمل ہوتے ہیں جو فضائی درجہ حرارت اور نمی کے ساتھ مل کر ماحول پر اثر ڈالتے ہیں۔
کچھ سائنسی تحقیقات کے مطابق یہ مظہر موسمیاتی تبدیلی میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے، خاص طور پر جب بڑی تعداد میں پروازیں مسلسل ایک ہی فضائی راستے استعمال کریں۔
ڈاکٹر سارہ قریشی نے اس مسئلے کو صرف ایک خیال کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے انجینئرنگ کے زرئعے کنٹرول اور حل کی طرف لے جانے کی کوشش کی۔ ان کا بنیادی سوال یہ تھا کہ اگر جہاز کے انجن سے نکلنے والے اخراج کو کنٹرول کیا جائے تو کیا ان سفید دھاریاں یا کنٹریلز کو کم کیا جا سکتا ہے؟ یہی سوال ان کی تحقیق کا مرکزی نکتہ بن گیا۔

یہ تحقیق کے پلیٹ فارم سے آگے بڑھی ہے ، جہاں مقصد ایک ایسا انجن سسٹم تیار کرنا ہے جو نہ صرف ایندھن کی کارکردگی بہتر بنائے بلکہ ماحول پر پڑنے والے اثرات کو بھی کم کرے۔ اس سسٹم میں اخراجی بخارات کو ٹھنڈا کر کے پانی میں تبدیل کرنے کا تصور شامل ہے، جس سے کنٹریل کی تشکیل میں کمی آ سکتی ہے۔
اگرچہ یہ تحقیق ابھی مکمل کمرشل مرحلے میں نہیں پہنچی، تاہم اسے ایوی ایشن انڈسٹری میں ایک اہم سائنسی سمت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی ٹیکنالوجی مستقبل میں ہوائی سفر کو زیادہ ماحول دوست بنانے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن اس کے لیے مزید تجربات، ٹیسٹنگ اور عالمی سطح پر توثیق ضروری ہے۔
ان کی تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ سائنس کو صرف لیبارٹری تک محدود نہیں رکھتیں بلکہ اسے عملی زندگی اور ماحولیات کے مسائل سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کے مطابق مستقبل کی ایوی ایشن کو صرف تیز یا سستا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ماحول کے لیے محفوظ بھی ہونا چاہیے۔
ان کی جدوجہد اس بات کی مثال ہے کہ پاکستان جیسے ممالک سے بھی عالمی سطح پر سائنسی مکالمے میں حصہ لیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ تحقیق کو تسلسل، وسائل اور وژن کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔ آج وہ نہ صرف محقق کے طور پر کام کر رہی ہیں بلکہ نوجوان انجینئرز، خصوصاً خواتین کے لیے ایک رہنمائی کا کردار بھی ادا کر رہی ہیں۔
اسی تحقیق کے دوران انہوں نے ایک تصوراتی نظام پر کام شروع کیا جو جہاز کے انجن سے نکلنے والی گیسوں کو کنٹرول کر کے انیہ فضائی صنعت آج جس بڑے چیلنج کا سامنا کر رہی ہے، وہ صرف ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ ماحولیات کا بھی ہے۔ کاربن اخراج، ایندھن کا بڑھتا ہوا استعمال اور موسمیاتی تبدیلی اس صنعت کو نئے حل تلاش کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں ڈاکٹر سارہ قریشی کی تحقیق ایک متبادل سوچ کے طور پر سامنے آتی ہے، جو یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا ہم پرواز کو زیادہ صاف، محفوظ اور ماحول دوست بنا سکتے ہیں؟
سفر ابھی مکمل نہیں ہوا، لیکن یہ ضرور واضح ہے کہ سائنسی تحقیق کی دنیا میں ایسے افراد تبدیلی کا نقطہ آغاز بنتے ہیں۔
ڈاکٹر سارہ قریشی کی کہانی بھی اسی سفر کی ایک جھلک ہے—جہاں سوال ابھی باقی ہیں، لیکن سمت واضح ہے۔