- مئی 2026 کی ایک گرم دوپہر میں پاکستان کے صوبے سندھ کے شہر سکھر کی ایک عدالت میں کھڑی نوجوان عورت اور 2 بچوں کی ماں گلاں بھاروں نے کہا تھا مجھے یقین ہے کہ مجھے قتل کردیا جائے گا اور 13 روز بعد بالکل ایسا ہی ہوا۔
- دوہزار بائیں سے 2025 کے درمیان سندھ میں 595 افراد کو کارو کاری کے الزام میں قتل کیا گیا جبکہ 2023 میں 167 افراد اور 2024 میں 15 افراد قتل ہوئے۔
صدیوں پہلے جاہلیت کے تاریک دور میں بیٹی پیدا ہوتے ہی زندہ دفنا دی جاتی تھی۔ اس کی معصومیت دیکھ کر بھی اس کے نام نہاد ‘اپنوں’ کا نا دل کانپتا تھا اور نہ ہی روح لرزتی تھی۔ یوں جیسے یہ کوئی عام بات ہو۔ یوں جیسے بیٹی انسان نہ ہو کوئی بے جان اور بے کار شے ہو جسے سے فوری طور پر جان چھڑانا لازم ہو۔
وقت کا پہیہ اپنی رفتار سے چلتا رہا۔ انسانی سماج پتھروں کے زمانے سے ہوتا ہوا مہذب معاشرے تک آ پہنچا اور اب ہم جس زمانے میں سانس لیتے ہیں اس میں دنیا ستاروں سے آگے کے سفر میں ہے۔ یہ دیکھ کر بڑا اچھا لگتا ہے کہ ہمارے لوگ بڑے بڑے شہروں کی جگمگاتی عمارتوں اور رش سے بھری سڑکوں سے لے کر گلی، محلوں، گاؤں ، قصبوں اورکھیتوں کھلیانوں تک میں جدید ٹیکنالوجی یعنی موبائل کا بھرپور استعمال کرتے ہیں اورآبادی کا کچھ حصہ تو اسی موبائل سے ویڈیوز اپ لوڈ کرکے پیسے بھی کما رہا ہے لیکن آج بھی بہت سے علاقوں میں کوئی بچی، لڑکی یا عورت موبائل سے اپنی ویڈیو اپ لوڈ کرے تو اس کی قیمت جان دے کر چکانی پڑتی ہے۔
معاشرے کی کچھ ایسی ہولناک حقیقتیں ہیں جن کو دیکھ اور سن کر لگتا ہے کہ زمانہ جاہلیت اپنی پوری سفاکی اور سنگدلی کے ساتھ ہمارے یہاں آ کررک گیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال نام نہاد ‘غیرت کے نام ‘ پر قتل ہے۔ نام نہاد غیرت کے نام پرقتل آج کے دورمیں بھی زندہ ہے۔ کبھی کاروکاری کے نام پر تو کہیں ونی کی شکل میں۔
مئی 2026 کی ایک گرم دوپہر میں پاکستان کے صوبے سندھ کے شہر سکھر کی ایک عدالت میں کھڑی نوجوان عورت اور 2 بچوں کی ماں گلاں بھاروں نے کہا تھا مجھے یقین ہے کہ مجھے قتل کردیا جائے گا اور 13 روز بعد بالکل ایسا ہی ہوا۔
اپنے شوہر کے تشدد اور ظلم کو خاموشی سے سہتی گلاں بھاروں کا صبر اس وقت ٹوٹا جب اس کے شوہر نے اسے کارو کاری قرار دے کر مارنا چاہا۔ گلاں بھاروں اپنی جان کے تحفظ کے لیے عدالت جا پہنچی اور جان کی امان کی عرضی دی۔ عدالت نے گلاں بھاروں کو دارالامان بھیجنے کا حکم دیا۔ لیکن ہوا کیا؟ ہوا یہ کہ گلاں بھاروں کے باپ نے اپنی پگڑی اس کے قدموں میں رکھ دی۔
گلاں بھاروں نے اس جذباتی بلیک میلنگ کے آگے سر جھکا دیا اور اپنے باپ اور خاندان کی نام نہاد عزت کو اپنی جان پر ترجیح دیتے ہوئے قانون کے دئیے تحفظ کو ایک طرف کرتے ہوئے دارالامان کے بجائے اپنے باپ کے ساتھ چلی گئی۔ پھر وہی ہوا جو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ گھر جانے کے 13 روز بعد اسے آبائی گاؤں شاہ بخش بھارو میں قتل کردیا گیا اور شوہر نے فخریہ پولیس کو بیان دیا کہ اس نے اپنی بیوی کو بدکاری کے الزام پر قتل کیا کیونکہ یہ غیرت کا معاملہ تھا۔
گلاں بھاروں نہ ہی پہلی عورت ہے اور نہ ہی آخری جو کارو کاری کی بھینٹ چڑھی۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق 2022 سے 2025 کے درمیان سندھ میں 595 افراد کو کارو کاری کے الزام میں قتل کیا گیا جبکہ 2023 میں 167 افراد اور 2024 میں 15 افراد قتل ہوئے۔
انسانی حقو ق کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سال 2025 صنفی تشدد کے واقعات میں 25 فیصد اضافہ ہوا جبکہ 470 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔ خواتین کی سائبر ہراسگی کے رپورٹ کیسز کی تعداد 586 تھی۔ بدکاری کے الزامات پر سندھ میں سال 2025 کے دوران 126 افراد کو قتل کیا گیا۔
نام نہاد ‘غیرت’ کے نام پر قتل جرم کی وہ بھیانک ترین شکل ہے جس میں لڑکیاں اورخواتین کسی باہر والے کے نہیں بلکہ اپنے پیاروں کے ہاتھوں بے گناہ ہی ماری جاتی ہیں۔ قندیل بلوچ سے لے کراب گلاں بھاروں تک۔۔ نہ جانے کتنی بیٹیاں، بہنیں اور بیویاں سفاکی کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں اور یہ سلسلہ تھمتا دکھائی نہیں دیتا۔ نام نہاد رواج اور روایت کے نام پراپنی نفرت اور غصہ نکالنے یا اپنے کسی دشمن سے پیچھا چھڑانے کے لیے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنی ہی بیٹی، بہن یا بیوی کو آرام سے قربان کر دیا جاتا ہے۔
اگرپورے ملک میں غیرت کے نام پر قتل کے سارے کیسز رپورٹ ہونے لگیں تو شاید اعدادوشمار اس بھی کہیں زیادہ ہولناک نقشہ پیش کریں۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ شرمناک سلسلہ کبھی رکے گا یا نہیں۔ زمینی حقائق کو دیکھ کر جو تلخ جواب سامنے آتا ہے وہ ہے ۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ اس ظلم میں شریک اوراسے بڑھاوا دینے والوں میں جرگے، سرداراور جاگیردار ہی نہیں پورا نظام شامل ہے۔
غربت، جہالت اورنام نہاد رسم ورواج میں جکڑے لوگ مل کر ظلم اور ظالم کے خلاف اٹھ کھڑے نہیں ہوتے۔ گلاں بھاروں جیسا واقعہ سامنے آنے کے کچھ عرصے تک میڈیا میں چرچا ہوتا ہے۔ شہری علاقوں میں رہنے والے زبانی اظہارافسوس کرتے اور رائے کا اظہار کرتے ہیں اور پھر کوئی نیا واقعہ پچھلے واقعے پر گرد ڈال دیتا ہے۔ اس رویے کو بدلنا ہو گا۔
عملی طور پر ایک ہوکر ہر اس شخص کوانصاف کے کٹہرے میں لانا اور نشان عبرت بنانا ہو گا جو غیرت کے نام پر قتل کر کے بھی چند دن جیل میں گزار کر آزاد ہو جاتا ہے۔
جرگوں میں بیٹھے نام نہاد معززین سے پوچھا جانا چاہئیے کہ وہ کس قانون کے تحت لوگوں کو سزائیں دیتے اور عملدرآمد کراتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ملک میں خواتین کے تحفظ اور غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کے قوانین تو ہیں لیکن ان کا نفاذ نہیں ہوتا۔ ضرورت اس بات کی ہے ان قوانین پر سختی سے عملدرآمد کر کے نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے مجرموں اور ان کے بااثر سرپرستوں کوعبرتناک سزائیں دی جائیں تا کہ کوئی بھی ایسا جرم کرنے سے پہلے 100 مرتبہ سوچے لیکن معاشرتی بے حسی اورسنگدلی دیکھتے ہوئے ایسا ہونا دیوانے کے خواب سے کم نہیں۔
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے۔۔