- سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی نے نوجوانوں تک منشیات کی رسائی کتنی آسان بنادی ہے ۔
- کیا منشیات کے بڑے نیٹ ورک کے پیچھے بااثر حلقوں کی مبینہ سرپرستی پر سوالات نہیں اٹھتے ؟
- اے این ایف کے اعدادوشمار کے مطابق لاکھوں نوجوان منشیات کے خطرے سے دوچار
- صرف پنکی ہی نہیں بلکہ پورے نیٹ ورک اور سہولت کاروں کے احتساب ضروری ہے ۔
ہمارے پیارے ملک پاکستان کے جو حالات چل رہے ہیں اس میں یہ توقع کرنا ہی محال ہے کہ کسی سے بات کرو تو وہ مہنگائی ، بجلی، پانی اور گیس سے محرومی کے علاوہ بھی کوئی بات کرے گا لیکن اچانک ایک ایسی خبرسامنے آئی جس کی وجہ سے تمام چینلز سرخ پٹیاں چلا چلا کر بےحال ہوگئے اور سوشل میڈیا میں تہلکہ مچ گیا۔ ریلوں ( یہاں مراد پانی کے ریلے نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر چلنے ریلز ہیں) کا انبار لگ گیا اور کان پڑی آواز سنائی دینا بند ہوگئی۔
آخر ایسا ہوا کیا جس نے لوگوں کو اپنے عام زندگی کے دکھ درد وقتی طور پر بھلا دئیے۔ تو جناب وہ خبر تھی بدنام زمانہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کی گرفتاری کی۔ اب یہاں یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ اینٹی نارکوٹک فورس ( اے این ایف) کے مطابق روز ملک میں منشیات فروش گرفتار ہوتے ہیں تو آخر پنکی کی گرفتاری پر اتنا ہنگامہ کیوں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انمول عرف پنکی کوئی عام منشیات فروش نہیں بلکہ اپنی ذات میں انجمن نکلیں۔
میڈیا رپورٹس پر اعتبار کیا جائے تو موصوفہ 14 سال کی عمر میں ماڈل بننے نکلی تھیں لیکن پھرشعبہ بدل کر منشیات کی فراہمی کو چنا اور اس میں اپنے وہ جوہر دکھائے کہ دیکھنے اور سننے والے دنگ رہ گئے۔ دوستوں اور دشمنوں میں خود کو کوکین کوئن کے نام سے ‘مشہور’ کروانے والی انمول پنکی ابتدا میں پارٹیوں، کالجز اور یونیورسٹی کے طلبا کو منشیات سپلائی کرنے جاتی تھیں لیکن جب اس کام میں دولت کی فراوانی دیکھی تو اپنا خود کا ‘کاروبار’ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
پنکی نے منشیات کی آن لائن فروخت میں سب کو پیچھے چھوڑا اور پھر خود کوکین بنانا شروع کردی اور اپنے نام سے کوکین کا باقاعدہ ‘برانڈ’ متعارف کروا دیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل آڈیو میں انمول پنکی پولیس والوں کو بھی یہ چیلنج کرتی سنائی دیں کہ قابلیت ہے تو اپنا برانڈ بنا کر دکھاؤ اور مجھے پکڑ کر دکھاؤ۔۔ پتا نہیں کتنے آئے اور کتنے ریٹائرہوگئے۔ پنکی کو پکڑنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ سچ کہیں تو انمول عرف پنکی اس بات کی حقدار ہے کہ نیٹ فلکس والے اس کی طرف توجہ کریں اور ایک سیریز بنا ڈالیں۔ ہمیں یقین ہے کہ پنکی کی سیریز نیٹ فلکس کی ڈرگز سے متعلق پچھلی ساری مشہور سیریزز مثلا ‘ ہاؤ ٹو سیل ڈرگز آن لائن’ اور ‘نارکوس ‘ کو کوسوں پیچھے چھوڑے گی۔
سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا کہ کسی حاسد کی چغلی کام کرگئی یا پھر شاید اثر رسوخ میں کچھ کمی آئی کہ انمول عرف پنکی عرف کوکین کوئن کو کراچی کے علاقے گارڈن سے گرفتار کرلیا گیا۔ موصوفہ کی عدالت میں پیشی کے مناظر بھی قابل دید تھے جس میں وہ شان بے نیازی سے منرل واٹر ہاتھ میں پکڑے پولیس کے پروٹوکول میں وارد ہوئیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ انمول عرف پنکی پر گزشتہ کئی سال سے کراچی اور ملک کے دیگر شہروں میں مقدمات درج تھے اور ان کے 2 بھائی جو پنکی کے ٹیم ممبر ہیں منشیات کے کیسز میں حوالات کی ہوا کھا چکے ہیں۔
یہ بات سب جانتے ہیں کہ منشیات کا زہر صرف ایک شخص کو ہی نہیں بلکہ پورے خاندان کو برباد کرتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے انقلاب اور موبائل پر ہرچیز کی فراوانی اور آسانی سے دستیابی نے منشیات فروشوں کا کام بھی آسان کردیا خصوصا ان نوجوانوں کے لیے جنہوں نے آنکھ ہی ٹیکنالوجی کے دور میں کھولی اور ‘جین زی’ کہلائے۔ یعنی بربادی کی نوبت صرف کسی ایک خاندان تک محدود نہیں رہی بلکہ بات نسلوں تک آگئی ہے۔ اور تو اور اب تو سنا ہے کہ یہ آگ مشہور سیاستدانوں کے گھر تک بھی نہ صرف پہنچ گئی ہے بلکہ اس نے خاصا کچھ جلا کر راکھ بھی کردیا ہے۔
یہاں یہ سوال بنتا ہے کہ ایک عورت کیسے اتنے عرصے سے اتنی کامیابی سے طلبا اور عام نوجوانوں میں موت بانٹتی رہی۔ اس کا جواب بھی سیدھا ہے اور وہ یہ کہ کوئی بھی اکیلے اتنا بڑا ریکٹ اتنے عرصے تک چلا ہی نہیں سکتا جب تک اسے معاشرے کے طاقتور طبقوں کا تعاون ، مدد اور حمایت حاصل نہ ہو۔
انسداد منشیات کے ادارے اینٹی نارکوٹکس فورس( اے این ایف) نے سال 2025 میں سینٹ کمیٹی کو بتایا کہ ملک بھر میں 18 سال سے لے کر 31 سال تک ایک کروڑ 17لاکھ نوجوان منشیات کی لت کا شکار ہیں یا اس میں مبتلا ہونے کو ہیں۔
صرف یہی نہیں حکومت پاکستان نے نے اقوام متحدہ کے دفتر برائے ڈرگز اینڈ کرائم اور امریکی حکومت کے تعاون سے نیشنل ڈرگ یوز سروے 24-2022جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ ایک سال کے دوران 6 کروڑ 70 لاکھ افراد نشے کے عادی ہوئے لیکن اس نشے میں شراب اور تمباکو شامل نہیں۔ سروے کے مطابق اس تعداد میں تقریبا 9 فیصد مرد اور 2 اعشاریہ 9 فیصد خواتین شامل ہیں۔
ان اعداد وشمار کو صرف تشویشناک ہی نہیں بلکہ ہولناک کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ حکومت معاملے کی سنگینی سے بے خبر نہیں۔ انسداد منشیات کے ادارے بھی موجود ہیں پوری انتظامیہ بھی کام کررہی ہے اور پولیس کا محکمہ بھی فعال ہے تو پھر کیوں منشیات کے عادی نوجوانوں اور لوگوں کی تعداد کم ہونے کے بجائے دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ اس کی ذمہ داری کون قبول کرے گا۔ آن لائن پر نشہ آور اشیا کا حصول اتنا آسان کیسے بن گیا کہ کوئی بھی پنکی اٹھ کر اپنا نیٹ ورک بنا لے اور موت کا سودا کھلے عام شروع کردے اور اسے قانون کا کوئی ڈر نہ ہو۔
منشیات کے ناسور کو اگر اب بھی نہ روکا گیا تو یہ وہ آگ ہے جس میں چراغ سب کے بجھیں گے اور کسی کا گھر محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ ان کا بھی نہیں جو معاشرے میں بااثر اور بااختیار ہیں اور اس گھناؤنے اور مکروہ دھندے کے شراکت دار بھی۔ احتساب اور سزا صرف پنکی کے لیے ہی نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کیس کو دبانے اور رسمی کارروائی ڈالنے کے بجائے جڑ تک پہنچ کر ہراس شخص کو انصاف کے کٹہرے میں لانا اور سزا دلوانا ہوگی جو اس میں کسی بھی طرح شامل تھا ورنہ انمول عرف کوکین کوئین اور دیگرمنشیات فروش یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ۔۔
ہنگامہ کیوں ہے برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکا تو نہیں ڈالا، چوری تو نہیں کی ہے۔۔۔