loader-image
Karachi, PK
temperature icon 33°C
5-Jun-2026 18-Zul Hijjah-1447
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 33°C
5-Jun-2026 18-Zul Hijjah-1447
  • بیلہ میں 47 ڈگری گرمی کے باوجود درختوں کی کٹائی جاری۔
  • لکڑی سے بھرا ٹرک خفیہ طور پر کراچی منتقل کیا جا رہا تھا۔
  • شہریوں کا غیر قانونی کٹائی کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ۔

بلوچستان کے علاقے بیلہ میں حالیہ دنوں درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے۔ شدید گرمی، خشک ہوائیں اور پانی کی قلت نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، مگر ان تمام خطرناک موسمی حالات کے باوجود درختوں کی بے دریغ کٹائی کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔

اس ویڈیو اور میں لکڑی سے بھرا  ٹرک بیلہ سے کراچی کی جانب جاتا دکھائی دیتا ہے، جسے پلاسٹک سے ڈھانپا گیا تھا۔ مقامی افراد کے مطابق ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ متعلقہ اداروں اور عام لوگوں کی نظروں سے بچا جا سکے۔

ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ بلوچستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ صوبے میں بارشوں کے پیٹرن تبدیل ہو رہے ہیں، گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ جنگلات اور قدرتی سبزہ تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق درخت صرف لکڑی کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ وہ ماحول کو ٹھنڈا رکھنے، بارشوں کے نظام کو برقرار رکھنے، مٹی کے کٹاؤ کو روکنے اور فضا میں آکسیجن فراہم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ جنگلات کی کمی نہ صرف درجہ حرارت بڑھاتی ہے بلکہ سیلاب، خشک سالی اور آلودگی جیسے مسائل کو بھی شدید کرتی ہے۔

بیلہ اور گرد و نواح کے مکینوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں یہاں نسبتاً معتدل موسم ہوا کرتا تھا، مگر اب گرمی کی شدت ہر سال بڑھ رہی ہے۔ مقامی افراد کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں یہ علاقے مزید خشک اور ناقابلِ رہائش ہو سکتے ہیں۔

ماحولیاتی کارکنوں نے حکومت بلوچستان، محکمہ جنگلات اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی درختوں کی کٹائی میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف بیانات سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ جنگلات کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات، نگرانی کے مؤثر نظام اور شجرکاری مہمات کی فوری ضرورت ہے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر آج بھی درختوں کی حفاظت نہ کی گئی تو آنے والی نسلوں کو سرسبز زمین نہیں بلکہ شدید گرمی، آلودہ فضا اور بنجر میدان ورثے میں ملیں گے۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں