loader-image
Karachi, PK
temperature icon 33°C
31-May-2026 13-Zul Hijjah-1447
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 33°C
31-May-2026 13-Zul Hijjah-1447

دنیا بھر میں “اسمارٹ گلاسز” یا آے آئی  چشموں کے استعمال پر نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں ایک طرف بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں انہیں مستقبل کی اہم ایجاد قرار دے رہی ہیں، تو دوسری جانب پرائیویسی اور خواتین کی ہراسانی سے متعلق خدشات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

پاکستان میں کیونکہ ابھی تک ہم رے بین کے اسمارٹ گلاسز تک ہی پہنچے تھے لہذا ہمارے لئے یہ ایک اہم خبر تھی ۔ برطانوی  نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق، ساحل سمندر، بازاروں اور عوامی مقامات پر خواتین کو ایسے مردوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جومیٹا  کے رے بین اسمارٹ چشمے پہن کر ان کی خفیہ ویڈیوز بنا رہے ہیں۔ اکثر خواتین کو اس وقت معلوم ہوتا ہے جب ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو جاتی ہیں، جہاں انہیں آن لائن بدسلوکی اور ٹرولنگ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

 میٹا کے یہ اسمارٹ چشمے  بظاہر عام رے بین  چشموں جیسے  ہی دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ  ان میں ایک انتہائی چھوٹا کیمرہ، اسپیکرز اور اے آئی  فیچرز شامل ہیں، جبکہ صرف فریم کو چھو کر ویڈیو ریکارڈ یا تصویر لی جا سکتی ہے۔یاد رہے میٹا کے اے آئی اسمارٹ گلاس  مارکٹ کا سب سے پسندیدہ برنڈ ہے ۔ دنیا بھر میں 80فیصد لوگ اسے لینا پسند کرتے کرتے ہیں ۔

رپورٹ  میں مزید یہ بھی کہا گیا کہ  کئی صارفین کو خود بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کے چشمے کب اور کیا ریکارڈ کر رہے ہیں۔ کینیا میں موجود وہ کارکن، جو اے آئی  ٹریننگ کے لیے ویڈیوز دیکھتے تھے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں انتہائی حساس اور نجی نوعیت کا مواد دیکھنے پر مجبور کیا گیا، جس کے بعد کمپنی کے خلاف قانونی مقدمات بھی دائر کیے گئے۔

دنیا بھر کی خواتین  اس لئے بھی فکر مند ہونا ہی چاہیے  کیونکہ میٹا کے بانی مارک زگربرگ نے دعویٰ کیا کہ میٹا کے اے آئی  گلاسز تاریخ کے تیزی سے فروخت ہونے والی ٹیکنالوجی میں شامل ہیں، اور اب تک تقریباً 70 لاکھ میٹا گلاسز  فروخت ہو چکے ہیں۔میٹا کا کہنا ہے کہ  لوگوں کو ہی  ذمہ دار بننا پڑے گا  ۔

ادھر ایپل ، گوگل اور اسنیپ  بھی اپنے اے آئی اسمارٹ چشمے متعارف کرانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ خیال کیا جارہا ہے کہ  اگلے چند برسوں میں ممکنہ طور پر 10 کروڑ افراد اس قسم کے چشمے استعمال کر سکتے ہیں۔

برطانیوی ریڈیو کی خبر کے مطابق قانونی ماہر ڈیوڈ  کیسلر کے مطابق، اگر ہر چشمہ کیمرہ بن جائے تو عدالتوں، اسپتالوں، سینما گھروں اور دیگر حساس مقامات پر ریکارڈنگ روکنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ میٹا مستقبل میں اپنے چشموں میں چہروں کی شناخت  کرنے کی ٹیکنالوجی بھی شامل کر سکتی ہے، جس کے بعدسے یقینا  نہ صرف خفیہ ریکارڈنگ بلکہ لوگوں کی فوری شناخت بھی ممکن ہو جائے گی۔

دوسری جانب کچھ صارفین ان چشموں کو مفید بھی قرار درہے  ہیں۔ جیسا کہ  ٹیکنالوجی ماہر مارک اسمتھ  کے مطابق، یہ چشمے موسیقی سننے، فون کالز لینے اور سفر کے دوران فوری تصاویر بنانے میں سہولت دیتے ہیں۔

تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی ایک نئے “ڈیجیٹل نگرانی کلچر” کو جنم دے سکتی ہے، جہاں عوامی زندگی میں ہر شخص ہر وقت خفیہ ریکارڈنگ کے خوف میں مبتلا ہو سکتا ہے۔

۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں