loader-image
Karachi, PK
temperature icon 34°C
31-May-2026 13-Zul Hijjah-1447
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 34°C
31-May-2026 13-Zul Hijjah-1447

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بھارت میں فوج کو حاصل قانونی تحفظ اور استثنیٰ سے متعلق سنگین خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متاثرین کے لیے انصاف کے راستے محدود ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ماہرین نے خاص طور پر ایسے قوانین اور پالیسیوں پر توجہ دلائی جن کے تحت سکیورٹی فورسز کو بعض علاقوں میں وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان اختیارات کے باعث مبینہ زیادتیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں اور طاقت کے غیر ضروری استعمال جیسے الزامات کی غیر جانبدار تحقیقات مشکل ہو جاتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ کسی بھی جمہوری نظام میں فوجی یا سکیورٹی اداروں کو مکمل قانونی تحفظ دینا احتساب اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں سے متصادم ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرین اور ان کے خاندانوں کو مؤثر انصاف اور قانونی چارہ جوئی تک رسائی ملنی چاہیے۔

رپورٹ میں بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ اپنے قوانین اور سکیورٹی فریم ورک کا ازسرِنو جائزہ لے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے تمام معاملات میں شفاف، آزاد اور مؤثر تحقیقات ہوں۔ ماہرین نے کہا کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار کے مطابق ریاستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سکیورٹی آپریشنز کے دوران جوابدہی کو یقینی بنائیں۔

دوسری جانب بھارتی حکام ماضی میں ایسے الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں اور مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ سکیورٹی فورسز دہشت گردی اور شورش سے نمٹنے کے لیے قانونی دائرہ کار کے اندر کام کرتی ہیں۔

یہ معاملہ ایک بار پھر بھارت میں سکیورٹی، انسانی حقوق اور احتساب کے درمیان توازن سے متعلق بحث کو نمایاں کر رہا ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں طویل عرصے سے عسکری یا سکیورٹی کارروائیاں جاری رہی ہیں۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں