اقوامِ متحدہ کے زیلی ادارہ قدرتی آفات کے خطرات میں کمی کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے بڑے شہر شدید گرمی کی لپیٹ میں آ رہے ہیں، تاہم بہتر شہری منصوبہ بندی اور جدید ڈیزائن کے ذریعے شہروں کو نسبتاً ٹھنڈا، محفوظ اور صحت مند بنایا جا سکتا ہے۔ دو خبر اپنے ناضرین کے لئے ان میں سے اہم نکات ان کے سامنے پیش کر رہاہے ۔ تاکہ ہمارے شہر گرم تر ہونے کے بجائے ، ممکنہ طور پر ٹھنڈے ہوسکیں ۔
ماحول دوست شہری منصوبہ بندی
شہروں میں کنکریٹ کی عمارتوں، کم ہوتے سبزہ زاروں، ٹریفک، صنعتی سرگرمیوں اور بڑھتی آبادی کے باعث درجہ حرارت دیہی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ رہتا ہے۔ اس رجحان کو ماہرین “شہری گرمی کا جزیرہ” قرار دیتے ہیں، جس میں شہری علاقے اردگرد کے مقامات سے کہیں زیادہ گرم ہو جاتے ہیں۔
ٹھنڈک کے مراکز اور سایہ دار عوامی مقامات
اقوامِ متحدہ نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کئی قابلِ عمل تجاویز پیش کی ہیں۔ ان میں شہروں میں زیادہ درخت لگانا، پارکس اور سبز چھتوں کا فروغ، پانی اور ہوا کے قدرتی راستوں کا تحفظ، سایہ دار عوامی مقامات کی تعمیر اور گرمی کے مطابق تعمیراتی اصول اپنانا شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درخت، سبزہ زار، عمودی باغات اور سبز چھتیں نہ صرف فضا کو بہتر بناتی ہیں بلکہ درجہ حرارت کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اسی طرح ہلکے رنگ کی چھتیں اور سڑکیں گرمی کم جذب کرتی ہیں، جس سے شہری علاقوں میں ٹھنڈک برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

گرمی کے مطابق تعمیراتی اصول
عالمی سطح پر یہ تجاویز اہم ہیں، لیکن پاکستان کے ساحلی شہر کراچی کے لیے ان کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، جہاں گزشتہ کئی برسوں سے شدید گرمی کی لہریں شہری زندگی کو متاثر کر رہی ہیں۔
کراچی میں 2015 کی شدید گرمی کی لہر ایک تلخ مثال کے طور پر دیکھی جاتی ہے، جب ہزاروں افراد شدید درجہ حرارت اور بجلی کی طویل بندش کے باعث جان کی بازی ہار گئے تھے۔ اس واقعے نے واضح کیا کہ بڑے شہروں میں گرمی صرف موسمی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عوامی صحت کا بحران بھی بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق کراچی میں درختوں کی کٹائی، کھلی زمینوں پر تعمیرات، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، ٹریفک کا دباؤ اور سمندری ہوا کی قدرتی گزرگاہوں میں رکاوٹ گرمی میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔
شہر کے کئی علاقوں میں مقامی سطح پر یہ فرق واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر کلفٹن، سی ویو اور فریئر ہال جیسے نسبتاً سرسبز علاقوں میں درجہ حرارت اکثر ان علاقوں کے مقابلے میں کم محسوس ہوتا ہے جہاں سبزہ نہ ہونے کے برابر ہے اور عمارتوں کا ہجوم زیادہ ہے۔


روشن دان اونچی چھتیں اور کھلے میدان
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں شہری گرمی کم کرنے کے لیے فوری طور پر مقامی نوعیت کے اقدامات ضروری ہیں۔ ان میں سڑکوں کے اطراف شجرکاری، نئے پارکوں کا قیام، عمارتوں کے نقشوں میں ہوا کے گزر کو مدنظر رکھنا، بس اسٹاپس اور عوامی مقامات پر سایہ دار جگہوں کی فراہمی اور کم آمدنی والے علاقوں میں “ٹھنڈک مراکز” کا قیام شامل ہو سکتا ہے۔
کمیونٹی کا کردار
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کمیونٹی کے کردار پر بھی زور دیتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گرمی کی شدت سے نمٹنے کے لیے صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں، بلکہ مقامی آبادی، سماجی اداروں اور نجی شعبے کی شمولیت بھی ضروری ہے۔ کمزور طبقات، بزرگ افراد، بچوں اور کھلے ماحول میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے خصوصی حفاظتی منصوبہ بندی ناگزیر قرار دی گئی ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر شہروں میں بڑھتی گرمی کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو صحت، پانی، توانائی اور شہری معیشت پر اس کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب مؤثر منصوبہ بندی اور ماحول دوست شہری ڈھانچے کے ذریعے شہروں کو زیادہ محفوظ، رہنے کے قابل اور صحت مند بنایا جا سکتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق مستقبل کے کامیاب شہر وہ ہوں گے جو صرف تعمیرات اور آبادی کے پھیلاؤ پر نہیں بلکہ ماحول، انسانی صحت اور موسمیاتی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی ترقی کی حکمتِ عملی مرتب کریں گے۔ کراچی جیسے بڑے شہروں کے لیے یہ پیغام خاص اہمیت رکھتا ہے، جہاں شہری گرمی اب مستقبل کا نہیں بلکہ موجودہ دور کا چیلنج بن چکی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق مستقبل کے شہر وہ ہوں گے جو ماحول کے ساتھ ہم آہنگ ہوں، اور جہاں ترقی کے ساتھ ساتھ انسانی صحت اور تحفظ کو بھی اولین ترجیح دی جائے۔