loader-image
Karachi, PK
temperature icon 30°C
29-May-2026 11-Zul Hijjah-1447
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 30°C
29-May-2026 11-Zul Hijjah-1447
Sindh Assembly

جب بھی سیاست کی بات کی جائے تو ہمارے سیاست دان  شور مچا رہے ہوتے ہیں کہ  صاف شفاف انتخابات  عوام کا حق ہے ۔لیکن جب یہ سیاست دان عوام کے ووٹ لے کر اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں تو وہاں عوام کے مسائل کے حل کے لئے کتنے متحرک ہیں ؟

آئیں آپ کو اسمبلی کی اندونی کہانیاں سنائیں۔

پاکستان کےقیام کی قرارداد پاس کرنےوالی تاریخی سندھ اسمبلی میں پارلیمانی امور میں سیاسی جماعتوں اور ان کےمنتخب ارکان سندھ اسمبلی کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سےلگایاجاسکتاہےکہ سندھ اسمبلی کی کئی قائمہ کمیٹیوں کاگزشتہ دوسال میں ایک اجلاس بھی نہیں ہوا سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کا انتخاب جون 2024میں ہوا قواعد و ضوابط کےتحت سندھ اسمبلی کے ارکان کےحلف کےبعد 90روز میں قائمہ کمیٹیوں اور پھر تیس روز کےاندر کمیٹی چیئرمین کا انتخاب ہونا ہے۔

سندھ اسمبلی میں مختلف محکموں کی34قائمہ کمیٹیاں ہیں اسمبلی پارلیمانی جماعتوں کی نمائندگی کےتناسب سےارکان قائمہ کمیٹی کا انتخاب کرتی ہے۔

ہر قائمہ کمیٹی 11ارکان پر مشتمل ہوتی ہےجن میں سےایک کو قائمہ کمیٹی کا چیئرمین منتخب کرلیاجاتاہے۔سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے پاس پبلک پٹیشنز لینےحکومتی ریکارڈ و افسران کی طلبی حکومتی محکمعں کےمالی و انتظامی امور کی نگرانی کا اختیار ہے

زرا غور کریں کہ قانون ساز سندھ اسمبلی میں ایک تہائی سےزائد قائمہ کمیٹیاں غیر فعال 32فیصد قائمہ کمیٹیوں کا ایک بھی اجلاس نہیں ہوا . 7قائمہ کمیٹیوں میں خواتین کو نمائندگی ہی نہیں دی گئی جبکہ محکمہ ترقی نسواں کی قائمہ کمیٹی  میں کوئی مرد رکن شامل نہیں سندھ اسمبلی کی 34میں سےبارہ فیصد قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ خواتین کے پاس ہے۔

سندھ اسمبلی کی34میں سے  چار قائمہ کمیٹیاں تو ایسی بھی ہیں جن کے چیئرمین کا ہی انتخاب نہیں ہوا جن میں قائمہ کمیٹی بلدیات قائمہ کمیٹی ٹرانسپورٹ قائمہ کمیٹی خوراک قائمہ کمیٹی بہبود آبادی شامل ہیں۔سندھ اسمبلی کی اسکولز ایجوکیشن سےمتعلق قائمہ کمیٹی سمیت صنعت و تجارت ،جنگلات و جنگلی حیات ،اطلاعات ،اوقاف ،آب پاشی ،منصوبہ بندی  و ترقیات ،معدنیات و معدنی وسائل ،سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن،کوآپریٹو ،اقلیتی امور،اور لائیو سٹاک کےمحکموں سےمتعلق قائمہ کمیٹیوں کا ایک بھی اجلاس دو سال میں نہیں ہوا ان میں سےقائمہ کمیٹی لائیو سٹاک کےچیئرمین پی ٹی آئی کےمحمد اویس جبکہ دیگر قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ پیپلزپارٹی ارکان کے پاس ہے

سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹیاں اور ان کےارکان حاصل اختیارات کےتحت مفادعامہ کےامور پر  حکومتی امور کی نگرانی کرسکتی سفارشات حکومت کو دےسکتی ہیں تاہم ان قائمہ کمیٹیوں نے خود کو لاتعلق رکھا۔سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں میں پارلیمانی جماعتوں کےارکان کےحوالےسےبھی صورت حال  قابل توجہ ہے۔

سندھ اسمبلی کے اہم ترین محکموں کی قائمہ کمیٹیوں میں خواتین کی نمائندگی ہی نہیں قائمہ کمیٹی محکمہ توانائی قائمہ کمیٹی انفارمیشن ٹیکنالوجی قائمہ کمیٹی لائیو سٹاک قائمہ کمیٹی ریونیو لینڈ یوٹیلائزیشن قائمہ کمیٹی سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن اور قائمہ کمیٹی ورکس اینڈ سروسز میں پیپلزپارٹی ایم کیوایم نے کسی خاتون رکن کو نامزد نہیں کیاجبکہ پی ٹی آئی کے پاس سندھ اسمبلی کی کوئی مخصوص نشست نہیں ہے

اسی طرح سندھ اسمبلی کی5 قائمہ کمیٹیاں ایسی ہیں ۔جن میں 10 مرد ارکان اور ایک خاتون رکن ہیں۔ سندھ اسمبلی کی 30 قائمہ کمیٹیوں کےمنتخب چیئرمینز میں 4 خواتین ہیں۔

سندھ اسمبلی کی اکیس فیصد  قائمہ کمیٹیوں میں خواتین کی نمائندگی نہیں۔ 15 فیصد میں ایک خاتون رکن اور 15 فیصد قائمہ کمیٹیوں  میں خواتین کی نمائندگی 5/5ارکان کی ہے۔

سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کا انتخاب جون 2024میں ہوا اور قریبا دوسال کےدوران ایک تہائی یعنی 11 قائمہ کمیٹیاں غیرفعال ان کا ایک بھی اجلاس نہیں ہوا آٹھ قائمہ کمیٹیاں ایسی ہیں جن کےصرف ایک اجلاس ہوئے وہ بھی انٹروڈکٹری اجلاس تھے۔

سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ہائر ایجوکیشن کےسب سےزیادہ چھ اجلاس ہوئے لیکن تمام کےتمام اجلاس ایوان سےبھیجے گئے مسودہ قوانین پر ہوئے۔ محکمےکی کارکردگی سےمتعلق کوئی اجلاس نہیں ہوا۔

سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کے چار ا اجلاس ہوئے۔ سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے13مئی2026تک مجموعی طورپر 58اجلاس ہوئے۔

ایوان سےبھیجے گئے16 میں سے12 مسودہ قوانین غوروسفارشات کےساتھ ایوان میں پیش ہوچکے۔ 4 بل زیر التوا ہیں۔پاکستان میں ان دنوں سب سےزیادہ چرچہ 28 ویں ترمیم اور اس میں بلدیاتی اداروں کا ہےلیکن سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی بلدیات ہی تشکیل نہیں دی گئی یے۔

ارکان اسمبلی اور پارلیمانی جماعتوں کی قائمہ کمیٹی جیسے باااختیار فورم میں دلچسپی کا عالم اعداد وشمار سےظاہر ہے

افسوس ناک امر یہ بھی ہےکہ کئی اراکین ایسے بھی ہیں جو ماضی میں وزارتوں یا کسی اور اہم عہدے پر فائز رہے وہ قائمہ کمیٹی کی چیئرمین شپ لینا نہیں چاہتے۔

قائمہ کمیٹیوں میں ارکان اور چیئرمینز کےانتخاب میں دلچسپ پہلو یہ بھی ہےکہ قائمہ کمیٹی بہبود آبادی جس کےچیئرمین کا انتخاب تاحال نہیں ہوا اطلاعات ہیں ایک ایسے رکن کو قائمہ کمیٹی بہبود آبادی کا چیئرمین بنایاجائےگا جس کے اپنےبچوں کی تعداد دس سےزائد ہے

پارلیمانی نظام میں قائمہ کمیٹیاں اسمبلی کا دماغ کہلائی جاتی اور آنکھ کان سمجھی جاتی ہیں قائمہ کمیٹی محکموں کی کارکردگی کی نگرانی پالیسیوں کا جائزہ قانون سازی میں معاونت اور سفارشات مرتب کرتی ہیں

One Response

  1. Democracy is mockary in Pakistan as a whole and mockery to the power 49 in lovely Sindh. Zardari juglery, Qaiym Ali Shah and his successors now 3 terms Eng. Murad Ali Sha saga heart less, brainless, ruthless most obedient servants of Ring Master patronizing LOOTERS, Dacoits, Bhatta collections and their Facilitate tors. There’s motives are cent percent contrary to established rules and practices of DEMOCRACY BY ALL MEASURES. ANY QUESTIONING MAY IGNITE THEIR INSTINCT TO ACCELERATE NON SATIABLE HUNGER MORE AND MORE

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں