loader-image
Karachi, PK
temperature icon 30°C
15-Jul-2026
29-Muharram-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 30°C
15-Jul-2026
29-Muharram-1448

  • پاکستان اور بھارت میں اپریل سے شدید اور غیر معمولی ہیٹ ویو جاری ہے۔
  • کئی علاقوں میں درجہ حرارت 46 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا۔
  • ہائی پریشر سسٹمز، بارشوں کی کمی اور موسمیاتی تبدیلی گرمی کی شدت کی بڑی وجوہات ہیں۔
  • نمی گرمی کو مزید خطرناک اور جان لیوا بنا دیتی ہے۔
  • غریب، مزدور اور کھلے ماحول میں کام کرنے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
  • ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث مستقبل میں ایسی ہیٹ ویوز مزید شدید اور زیادہ بار بار آئیں گی۔

آج پوری دنیا میں  ماحولیات کا دن منایا جا رہا ہے ۔  ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان سمیت  بنگلہ دیش،بھارت اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک اس وقت شدید اور طویل ہیٹ ویو کا سامنا کر رہے ہیں۔ جہاں کئی علاقوں میں درجہ حرارت 46 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے۔

یہاں پاکستان میں  ایک ماہ پہلے ہی محکمہ موسمیات نے آگاہ کر دیا تھا کہ پاکستان میں اب گرم ترین علاقوں میں سبی اور جیک آباد  کے ساتھ ساتھ اب موہنجو ڈرو اور  دادو کے نام بھی گرم ترین شہر  وں میں آنے لگے ہیں ۔ جہاں اب تک 45سنٹی گریڈ تک درجہ حرارت پہنچ چکا ہے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق  پاکستان میں زیادہ سے زیادہ 49 سنٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔   ماہرین کے مطابق رواں سال گرمی کی شدت معمول سے کہیں زیادہ ہے اور اس کی بنیادی وجوہات موسمیاتی تبدیلی، بارشوں کی کمی اور فضا میں قائم طاقتور ہائی پریشر سسٹم ہیں۔

 جنوبی ایشیا کا خطہ لواور گرمی سے ناواقف نہیں ہیں۔خط استوا پر ہونے کی وجہ سے یہ مہینے  عموماً سب سے زیادہ گرم ہوتا ہے کیونکہ جون میں مون سون کی بارشوں سے پہلے درجہ حرارت اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ جاتا ہے۔

اس مسلسل گرمی نےجنوبی ایشیا میں بجلی کی طلب کو ریکارڈ سطح تک پہنچا دیا ہے کیونکہ لوگ ایئر کنڈیشنرز کا زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان اور بھارت میں 10 لاکھ مربع کلومیٹر سے زائد رقبہ خشک سالی کے اثرات سے متاثر ہو رہا ہے۔پاکستان قدرتی آفات  کے محکمہ سند ہ کے مطابق2020سے  2022 کے  دوران  شدید قحط سالی رہی ۔ جس سے 1.4 ملین افراد متاثر  ہوئے جبکہ 5.4 ملین مویشی اس کا شکار ہوئے ۔

 جب شدید گرمی کے ساتھ نمی بھی شامل ہو جائے تو صورتحال جان لیوا بن سکتی ہے۔ ایسے حالات میں انسانی جسم خود کو مؤثر طریقے سے ٹھنڈا نہیں رکھ پاتا۔ اس ہیٹ ویو کے نتیجے میں بھارت میں کم از کم 37 اور پاکستان میں 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ تعداد حقیقی اموات سے کہیں کم ہو سکتی ہے کیونکہ گرمی سے ہونے والی اموات کا مکمل ریکارڈ اکثر نہیں رکھا جاتا۔

آخر اتنی گرمی کیوں پڑ رہی ہے؟

مون سون کی آمد سے قبل گرمی کا بڑھ جانا معمول کی بات ہے، لیکن بعض اوقات مختلف عوامل مل کر صورتحال کو کہیں زیادہ سنگین بنا دیتے ہیں۔

اس سال گرمی کی شدت کی ایک بڑی وجہ مسلسل قائم رہنے والے ہائی پریشر موسمی نظام ہیں۔ جب یہ نظام کسی علاقے پر طویل عرصے تک برقرار رہتے ہیں تو بادل بننے کا عمل کم ہو جاتا ہے اور بارش کے امکانات گھٹ جاتے ہیں۔ نتیجتاً ٹھنڈک پہنچانے والی بارش نہیں ہوتی اور زمین کے قریب گرم ہوا پھنس جاتی ہے۔اس سال بھارت اور پاکستان کے مختلف حصوں پر طاقتور ہائی پریشر سسٹمز طویل عرصے تک موجود رہے، جس سے درجہ حرارت کئی دنوں تک مسلسل بڑھتا رہا۔

بارشوں میں کمی کے باعث زمین کی سطح مزید گرم ہو جاتی ہے اور مٹی خشک ہونے لگتی ہے۔ خشک مٹی نمی کو بخارات میں تبدیل کرنے کے بجائے زیادہ حرارت جذب کرتی ہے، جس سے زمین مزید گرم ہو جاتی ہے۔ ہائی پریشر سسٹمز کئی دنوں تک برقرار رہ سکتے ہیں، جس سے شدید گرمی جمع ہوتی رہتی ہے۔

ان فوری وجوہات کے پیچھے ایک بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے

جیسے جیسے دنیا کا اوسط درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، ہیٹ ویوز بھی زیادہ شدید اور زیادہ بار بار آنے لگی ہیں۔ عالمی موسمیاتی تحقیقی ادارے ورلڈ ویدر ایٹری بیوشن کے اندازوں کے مطابق 15 سے 29 اپریل 2026 کے درمیان آنے والی شدید ہیٹ ویو موسمیاتی تبدیلی کے باعث تقریباً تین گنا زیادہ ممکن ہوئی اور اس کی شدت میں تقریباً ایک ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا۔

عالمی حدت اس وقت تقریباً 1.4 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکی ہے۔ اس سطح پر جنوبی ایشیا کو ہر پانچ سال بعد اس نوعیت کی شدید ہیٹ ویوز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اگر دنیا موجودہ راستے پر چلتی رہی تو 2100 تک عالمی درجہ حرارت میں 2.6 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں اس نوعیت کی ہیٹ ویوز ہر دو یا تین سال بعد آئیں گی اور موجودہ حالات سے تقریباً 2.2 ڈگری زیادہ گرم ہوں گی۔

نمی گرمی کو مزید جان لیوا بناتی ہے

تھرمامیٹر پر نظر آنے والا درجہ حرارت خطرے کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ہوا میں نمی زیادہ ہونے کی صورت میں پسینہ جسم کو ٹھنڈا کرنے کا مؤثر ذریعہ نہیں رہتا۔ جب فضا پہلے ہی نمی سے بھرپور ہو تو پسینہ جلد خشک نہیں ہوتا۔ نتیجتاً جسم مسلسل گرم ہوتا رہتا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے کئی علاقے شدید نمی کا شکار ہیں۔ جب ایسی جگہوں پر شدید گرمی طویل عرصے تک برقرار رہے تو صحت کے لیے خطرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

انسانی جسم خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پسینے پر انحصار کرتا ہے۔ جب پسینہ جلد سے بخارات بن کر اڑتا ہے تو جسم سے حرارت بھی خارج ہو جاتی ہے۔ لیکن نمی زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ عمل سست پڑ جاتا ہے۔

اسی وجہ سے سائنس دان مہلک نمی (Lethal Humidity) کے بڑھتے ہوئے خطرے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، جہاں گرمی اور نمی مل کر انسان کو شدید بیمار یا ہلاک کر سکتی ہیں۔

نمی کے انسانی جسم پر اثرات

ایسی صورتحال میں سب سے پہلے جسم کا اندرونی درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے۔ جسم زیادہ پسینہ خارج کرتا ہے لیکن اس سے خاطر خواہ ٹھنڈک حاصل نہیں ہوتی۔

اگر فوری آرام یا ٹھنڈک نہ ملے تو جسم کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر سکتا ہے اور ہیٹ اسٹروک ہو سکتا ہے، جو دماغ اور دیگر اہم اعضا کو نقصان پہنچاتا ہے۔ بروقت طبی امداد نہ ملنے کی صورت میں یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

مثال کے طور پر کھلے ماحول میں موجود عمر رسیدہ افراد کے لیے 35 ڈگری درجہ حرارت اور 90 فیصد نمی اتنی ہی خطرناک ہے جتنا 45 ڈگری درجہ حرارت اور 30 فیصد نمی۔تحقیقات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ 18 سے 35 سال کی عمر کے صحت مند افراد بھی 45 ڈگری درجہ حرارت اور 40 فیصد نمی میں جان کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

خطرات سب کے لیے یکساں نہیں

شدید گرمی اور نمی کے اثرات ہر طبقے پر برابر نہیں پڑتے۔مالی طور پر خوشحال افراد ایئر کنڈیشنر استعمال کر سکتے ہیں اور گرمی سے بچنے کے لیے گھروں میں رہ سکتے ہیں۔اس کے برعکس کچی آبادیوں میں رہنے والے افراد، تعمیراتی مزدور، کسان، ڈیلیوری رائیڈرز اور دیگر محنت کش طبقے کے لوگ گرمی سے بچنے کے محدود وسائل رکھتے ہیں اور انہیں روزگار کے لیے کھلے ماحول میں کام کرنا پڑتا ہے۔

ایک اور اہم مسئلہ رات کے وقت درجہ حرارت کا بلند رہنا ہے۔ انسانی جسم کو دن بھر کی شدید گرمی سے بحالی کے لیے رات کو نسبتاً ٹھنڈے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن جب رات کے وقت بھی گرمی برقرار رہے تو جسم کو آرام کا موقع نہیں ملتا۔

اگرچہ شہر اپنے گردونواح کے علاقوں کے مقابلے میں زیادہ گرم ہوتے ہیں، تاہم دیہی آبادی بھی شدید خطرات سے دوچار رہتی ہے کیونکہ وہاں زیادہ تر کام کھلے ماحول میں کیا جاتا ہے، طبی سہولیات دور ہوتی ہیں اور ٹھنڈک کے ذرائع محدود ہوتے ہیں۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں