رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اداکارہ مومنہ اقبال کو آن لائن ہراساں کرنے، بلیک میلنگ اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا معاملہ گزشتہ ماہ سامنے آیا تھا۔ اداکارہ مومنہ اقبال نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر مسلم لیگ (ن) کی سینئر قیادت، بالخصوص وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے انصاف کی اپیل کی تھی۔
مومنہ اقبال نے الزام لگایا کہ انہیں حکومتی جماعت کے ایک رکن کی جانب سے آن لائن ہراساں کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں جس کے باعث وہ اور ان کا خاندان شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بارہا این سی سی آئی اے اور ایف آئی اے سے رجوع کرنے کے باوجود کارروائی نہیں ہو رہی اور وزیر اعلیٰ کے دفتر سے وابستہ بعض افراد کی جانب سے بھی معاملے کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
سوشل میڈیا پر یہ پوسٹ وائرل ہونے کے بعد ن لیگ کی اعلیٰ قیادت نے معاملے کا نوٹس لیا اور این سی سی آئی اے کو فوری کارروائی کی ہدایت کی، جس کے بعد 21 مئی کو دونوں فریقین کو طلب کیا گیا۔
اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ؛ رکن پنجاب اسمبلی سائبرکرائم میں طلب
ہراسگی اور بلیک میلنگ کے سنگین الزامات
مومنہ اقبال کی طرف سے لاہور کے تھانہ چوہنگ میں ایم پی اے ثاقب چدھڑ کے خلاف ایف آئی آر کے لیے دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ثاقب چدھڑ نے انہیں شادی کی پیشکش کی تھی۔ تاہم جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ وہ پہلے سے ہی دو خواتین سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہیں تو مومنہ نے شادی سے انکار کر دیا۔
شادی سے انکار پر مبینہ طور پر ایم پی اے نے نازیبا واٹس ایپ پیغامات، ویڈیو کالز اور دھمکیوں کا سلسلہ شروع کر دیا اور یہی دھمکی آمیز پیغامات مومنہ کی بہن رمشا اقبال کو بھی بھیجے گئے۔
این سی سی آئی اے لاہور نے اداکارہ کی شکایت پر سائبر ہراسگی، بلیک میلنگ، نازیبا مواد کی تشہیر اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے الزامات (پیکا ایکٹ کے تحت) کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج کیا ہے۔
اس سلسلے میں درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے خاتون کی مبینہ نازیبا ویڈیوز اور نجی معلومات ان کی رضامندی کے بغیر مختلف افراد تک پہنچائیں تاکہ ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
ڈیجیٹل اور فرانزک شواہد
لاہور ہائی کورٹ بار کے رکن طاہر چودھری ایڈووکیٹ کے مطابق مومنہ اقبال نے ثبوت کے طور پر اپنے موبائل فونز جمع کروائے ہیں۔ ان شواہد میں وہ فحش ویڈیو بھی شامل ہے جو ثاقب چدھڑ نے اپنے رجسٹرڈ شدہ نمبر (9999) سے مومنہ اقبال کے واٹس ایپ نمبر (4535) اور ان کی وکیل بہن رمشہ اقبال کو بھیجی تھی۔
تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزم ثاقب چدھڑ کو اپنا موبائل فون جمع کروانے کا کہا گیا تو انہوں نے 13 دن کی تاخیر سے فون جمع کروایا اور فون جمع کروانے سے پہل اس میں سے تمام ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیا۔ تاہم، کال ڈیٹا ریکارڈ (CDR) کے آئی ایم ای آئی (IMEI) نمبرز سے یہ ثابت ہوا کہ مذکورہ سمز اسی موبائل میں چل رہی تھیں۔
مزید برآں، ثاقب چدھڑ نے غیر قانونی طور پر مومنہ اقبال کی سی ڈی آر بھی نکلوائی تھی۔ کیس میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ ثاقب چدھڑ کی اہلیہ ‘س’ نے بھی اپنے رجسٹرڈ نمبر (1119) سے مومنہ کو دھمکیاں دیں لیکن انہوں نے اپنا موبائل فون تفتیش کے لیے جمع نہیں کروایا۔
عدالتی کارروائی اور عبوری ضمانت
لاہور کی سیشن عدالت میں گزشتہ رو ز ایڈیشنل سیشن جج عرفان احمد شیخ نے ملزم ثاقب چدھڑ کی عبوری درخواستِ ضمانت پر سماعت کی جس میں ملزم اپنے وکیل میاں علی اشفاق کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوا۔
ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ این سی سی آئی اے نے بے بنیاد مقدمہ درج کیا ہے اور ان کے موکل شاملِ تفتیش ہونے کے لیے تیار ہیں جس پر عدالت نے ملزم کی عبوری ضمانت 24 جون تک منظور کرتے ہوئے پولیس کو اس کی گرفتاری سے روک دیا اور اگلی سماعت پر مقدمے کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
قبل ازیں لاہور ہائی کورٹ نے 25 مئی کو ایک الگ معاملے میں مومنہ اقبال کے شوہر حمزہ حبیب کے خلاف ثاقب چدھڑکو مبینہ طور پر دھمکیاں دینے کے مقدمے میں عبوری حفاظتی ضمانت منظور کی تھی۔
متاثرہ فریق اور حکومت کا موقف
مومنہ اقبال کی بہن اور وکیل رمشا اقبال نے ثاقب چدھڑ کے خلاف این سی سی آئی اے میں مقدمہ درج ہونے پر وزیر اعلیٰ مریم نواز کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیر کے روز ایک نئی درخواست جمع کروائیں گی اور کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گی۔
انہوں نے ثاقب چدھڑ کو چیلنج کیا کہ وہ کروڑوں روپے کے لین دین کے الزامات این سی سی آئی اے میں ثابت کریں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں قتل کی دھمکیاں دی گئیں اور سوشل میڈیا پر ان کے خلاف پیڈ مہم چلائی گئی۔
وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز نے اس کیس کے حوالے سے ایکس (ٹویٹر) پر پوسٹ کیا ہے کہ اس کیس میں “ذاتی مواد” جاری کرنے کی دھمکی دے کر سیاسی دباؤ، اثر و رسوخ کا غلط استعمال یا کسی بھی خاتون کا استحصال کرنے کی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل کی جائے گی۔
اس کیس کی اگلی سماعت 24 جون کو ہوگی، جہاں این سی سی آئی اے کی جانب سے فرانزک رپورٹ اور شواہد عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ ثاقب چدھڑ صوبہ پنجاب کے ضلع چنیوٹ سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 97 سے 2024 کے عام انتخابات میں آزاد امیدوار کے طور پر رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہونے کے بعد مسلم لیگ ن میں شامل ہو گئے تھے۔ اس سے پہلے وہ تحریک انصاف سے وابستہ تھے اور 2007ء میں ان پر غریب افراد کو نوکری کا جھانسہ دے کر ان کے گردے نکال کر مہنگے داموں غیر ملکی مریضوں کو فروخت کرنے کے الزامات بھی لگ چکے ہیں۔