کراچی: سندھ حکومت نے آئندہ چند برسوں میں اپنی ٹیکس اور نان ٹیکس آمدن میں نمایاں اضافے کی توقع ظاہر کرتے ہوئے پیش گوئی کی ہے کہ صوبے کی اپنی آمدن مالی سال 2028-29 تک 950 ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔
محکمہ خزانہ سندھ کی جانب سے جاری بجٹ دستاویزات کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران صوبائی محصولات 546 ارب روپے رہیں، جبکہ مالی سال 2025-26 میں ان کے 664 ارب روپے تک بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
دستاویز کے مطابق محصولات میں اضافے کے لیے مختلف اصلاحاتی اقدامات متعارف کرائے جا رہے ہیں، جن میں زرعی آمدنی ٹیکس کے نئے نظام کا نفاذ، سروسز پر سیلز ٹیکس کے نیگیٹو لسٹ ماڈل کا اطلاق اور ریونیو انتظامیہ میں بہتری شامل ہیں۔
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، وصولیوں کے نظام کو جدید بنانے اور معاشی سرگرمیوں کی بہتر دستاویز بندی کے نتیجے میں صوبائی آمدن میں مسلسل اضافہ متوقع ہے۔
بجٹ حکمت عملی کے مطابق آئندہ برسوں میں محصولات کے نظام میں مزید اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن کے اقدامات بھی جاری رکھے جائیں گے تاکہ صوبے کے مالی وسائل میں اضافہ اور ترقیاتی اخراجات کے لیے مقامی وسائل کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔