اہم نکات:
- سندھ حکومت نے بڑھتے مالیاتی دباؤ سے خبردار کر دیا۔
- 11ویں این ایف سی ایوارڈ اور وفاقی محاصل میں ممکنہ کمی خدشات میں شامل۔
- او زی ٹی گرانٹ کے خاتمے کا امکان، مالی منصوبہ بندی میں شامل نہیں۔
- درمیانی مدت میں آپریٹنگ بجٹ خسارہ برقرار رہنے کا خدشہ۔
- ایف بی آر کو ہدف حاصل کرنے کے لیے آخری تین ماہ میں 4,672 ارب روپے جمع کرنا ہوں گے
کراچی: سندھ حکومت نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ برسوں میں صوبے کو بڑھتے ہوئے مالیاتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ 11ویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ، وفاقی قابل تقسیم محاصل میں صوبائی حصے میں ممکنہ کمی اور آکٹروئی و ضلع ٹیکس (او زی ٹی) گرانٹ کے خاتمے جیسے عوامل صوبے کی مالی پوزیشن کو متاثر کر سکتے ہیں۔
مالی سال 2026-27 سے 2028-29 کے بجٹ اسٹریٹجی پیپر کے مطابق سندھ کو درمیانی مدت کے مالیاتی فریم ورک میں آپریٹنگ بجٹ خسارے کا سامنا رہنے کا امکان ہے، کیونکہ اخراجات کی رفتار آمدن میں اضافے کے مقابلے میں زیادہ رہ سکتی ہے۔
دستاویز میں وفاقی محصولات پر انحصار کو بھی ایک بڑا مالیاتی خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ سندھ حکومت کے مطابق وفاقی سطح پر محصولات کی وصولی میں کمی یا قابل تقسیم محاصل کی تقسیم کے فارمولے میں تبدیلی صوبے کے مالی وسائل پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
بجٹ اسٹریٹجی پیپر کے مطابق مالی سال 2025-26 کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا ہدف 14 ہزار 131 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں اسے کم کرکے 13 ہزار 979 ارب روپے کر دیا گیا۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ہدف حاصل کرنے کے لیے ایف بی آر کو مالی سال کے آخری تین ماہ کے دوران 4 ہزار 672 ارب روپے کی وصولیاں کرنا ہوں گی۔
سندھ حکومت نے او زی ٹی گرانٹ کے مستقبل کے بارے میں بھی خدشات کا اظہار کیا ہے۔ دستاویز کے مطابق امکان ہے کہ یہ گرانٹ آئندہ برسوں میں ختم ہو جائے، اسی لیے اسے درمیانی مدت کی مالیاتی پیش گوئیوں میں شامل نہیں کیا گیا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ مالی استحکام برقرار رکھنے کے لیے صوبائی محصولات میں اضافے، ٹیکس اصلاحات اور آمدنی کے نئے ذرائع تلاش کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ مستقبل میں مالیاتی خطرات سے نمٹا جا سکے۔