کوئٹہ: کوئٹہ کے سنڈیمن صوبائی اسپتال میں تیزاب گردی کا نشانہ بننے والی ٹرینی سرجن ڈاکٹر ماہ نور ناصر کی حالت میں بہتری آرہی ہے اور انہیں مزید علاج کے لیے کراچی آغا خان ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔جہاں ان کی سرجری کردی گئی ہے۔ ان کی بینائی بچ گئی ہے۔
کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگتی نے واقعے میں زخمی ہونے والے اسپتال ملازم عبدالرزاق ترکئی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور لیڈی ڈاکٹر کو بچانے کے دوران ان کی بہادری اور جرات کو سراہا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ عبدالرزاق نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر انسانیت کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے اور حکومت ان کے علاج اور دیکھ بھال کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔


سرکاری ذرائع کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور پر ہفتہ کے روز اسپتال کے ایک ملازم نے مبینہ طور پر تیزاب پھینکا تھا، جس کے نتیجے میں ان کے چہرے، سینے اور جسم کے دیگر حصے شدید متاثر ہوئے۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں ان کے جسم کا بڑا حصہ جھلس گیا تھا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ متاثرہ ڈاکٹر کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے اور علاج و بحالی کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے۔ انہوں نے حکام کو متاثرہ خاندان سے مسلسل رابطے میں رہنے اور ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔
پولیس کے مطابق حملے کے بعد ملزم فرار ہوگیا تھا، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تعاقب کے بعد اسے روکنے کی کوشش کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے فائرنگ کی، جس پر جوابی کارروائی میں وہ ہلاک ہوگیا۔
واقعے کے بعد بلوچستان بھر میں ڈاکٹروں اور طبی عملے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ مختلف طبی تنظیموں نے اسپتالوں میں سکیورٹی کے مؤثر انتظامات اور طبی عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔