loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
15-Jul-2026
29-Muharram-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
15-Jul-2026
29-Muharram-1448

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے غیر سرکاری اور ابتدائی نتائج سامنے آگئے ہیں ۔ اس  کے مطابق گلگت بلتستان انتخابات: دھاندلی کے الزامات کے باوجود پیپلز پارٹی ابتدائی نتائج میں10 سیٹیں جیت کر سبقت لے گئی

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے غیر سرکاری اور ابتدائی نتائج سامنے آگئے ہیں ۔ اس  کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) 10 سیٹیں جیت کر سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔  تاہم انتخابی عمل کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے الزامات نے سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے۔

اتوار کو ہونے والے انتخابات میں 24 نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوئی، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی تقریباً 10 سے 11 نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) 5 سے 6 نشستوں پر آگے ہے۔ آزاد امیدوار بھی کئی حلقوں میں مضبوط پوزیشن میں ہیں، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار چند نشستوں پر سبقت حاصل کیے ہوئے ہیں۔

گلگت، نگر، اسکردو، شگر، روندو اور خرمنگ سمیت متعدد حلقوں میں پیپلز پارٹی کے امیدوار ابتدائی نتائج میں آگے رہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے استور، تانگیر، غذر اور دیگر بعض علاقوں میں بہتر کارکردگی دکھائی۔ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار ہنزہ اور گلگت کے بعض حلقوں میں نمایاں رہے۔

انتخابی نتائج سامنے آنے کے ساتھ ہی پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف دونوں نے انتخابی عمل پر سوالات اٹھا دیے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ کئی پولنگ اسٹیشنوں پر امیدواروں اور ان کے نمائندوں کو فارم 45 فراہم نہیں کیے گئے، جو ووٹوں کی گنتی کی سرکاری دستاویز ہوتی ہے۔ پارٹی نے ووٹر فہرستوں میں ردوبدل اور بعض پولنگ اسٹیشنوں کی منتقلی کو بھی دھاندلی کا حصہ قرار دیا۔

تحریک انصاف نے بھی انتخابی عمل میں مبینہ مداخلت اور نتائج میں ردوبدل کے خدشات ظاہر کیے۔ پارٹی کے مطابق شام تک ان کے امیدوار کئی حلقوں میں برتری حاصل کیے ہوئے تھے، تاہم بعد ازاں آنے والے نتائج نے صورتحال بدل دی۔ تحریک انصاف نے فارم 46 کی عدم فراہمی اور بعض علاقوں میں مشکوک ووٹنگ ٹرن آؤٹ پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں۔

دوسری جانب گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر نے مجموعی طور پر انتخابی عمل کو پرامن قرار دیا۔ ان کے مطابق بیشتر پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹنگ کا عمل تسلی بخش رہا اور خواتین ووٹرز کی شرکت بھی حوصلہ افزا تھی۔ نگراں حکومت نے بھی کہا کہ معمولی شکایات کے باوجود انتخابات پرامن ماحول میں منعقد ہوئے۔

گلگت بلتستان اسمبلی کی 33 نشستوں میں سے 24 نشستوں پر براہ راست انتخاب ہوتا ہے، جبکہ خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی مخصوص نشستیں بعد میں جماعتی پوزیشن کی بنیاد پر تقسیم کی جاتی ہیں۔ اس لیے حتمی نتائج اور مخصوص نشستوں کی تقسیم کے بعد ہی واضح ہوگا کہ اگلی حکومت کون سی جماعت تشکیل دے گی اور وزارتِ اعلیٰ کا منصب کس کے حصے میں آئے گا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو پیپلز پارٹی حکومت سازی کی مضبوط پوزیشن میں ہوگی، تاہم آزاد امیدواروں اور مخصوص نشستوں کی تقسیم آئندہ سیاسی منظرنامے کے تعین میں اہم کردار ادا کرے گی۔ پارٹی (پی پی پی) 10 سیٹیں جیت کر سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔  تاہم انتخابی عمل کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے الزامات نے سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے۔

اتوار کو ہونے والے انتخابات میں 24 نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوئی، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی تقریباً 10 سے 11 نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) 5 سے 6 نشستوں پر آگے ہے۔ آزاد امیدوار بھی کئی حلقوں میں مضبوط پوزیشن میں ہیں، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار چند نشستوں پر سبقت حاصل کیے ہوئے ہیں۔

گلگت، نگر، اسکردو، شگر، روندو اور خرمنگ سمیت متعدد حلقوں میں پیپلز پارٹی کے امیدوار ابتدائی نتائج میں آگے رہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے استور، تانگیر، غذر اور دیگر بعض علاقوں میں بہتر کارکردگی دکھائی۔ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار ہنزہ اور گلگت کے بعض حلقوں میں نمایاں رہے۔

انتخابی نتائج سامنے آنے کے ساتھ ہی پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف دونوں نے انتخابی عمل پر سوالات اٹھا دیے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ کئی پولنگ اسٹیشنوں پر امیدواروں اور ان کے نمائندوں کو فارم 45 فراہم نہیں کیے گئے، جو ووٹوں کی گنتی کی سرکاری دستاویز ہوتی ہے۔ پارٹی نے ووٹر فہرستوں میں ردوبدل اور بعض پولنگ اسٹیشنوں کی منتقلی کو بھی دھاندلی کا حصہ قرار دیا۔

تحریک انصاف نے بھی انتخابی عمل میں مبینہ مداخلت اور نتائج میں ردوبدل کے خدشات ظاہر کیے۔ پارٹی کے مطابق شام تک ان کے امیدوار کئی حلقوں میں برتری حاصل کیے ہوئے تھے، تاہم بعد ازاں آنے والے نتائج نے صورتحال بدل دی۔ تحریک انصاف نے فارم 46 کی عدم فراہمی اور بعض علاقوں میں مشکوک ووٹنگ ٹرن آؤٹ پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں۔

دوسری جانب گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر نے مجموعی طور پر انتخابی عمل کو پرامن قرار دیا۔ ان کے مطابق بیشتر پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹنگ کا عمل تسلی بخش رہا اور خواتین ووٹرز کی شرکت بھی حوصلہ افزا تھی۔ نگراں حکومت نے بھی کہا کہ معمولی شکایات کے باوجود انتخابات پرامن ماحول میں منعقد ہوئے۔

گلگت بلتستان اسمبلی کی 33 نشستوں میں سے 24 نشستوں پر براہ راست انتخاب ہوتا ہے، جبکہ خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی مخصوص نشستیں بعد میں جماعتی پوزیشن کی بنیاد پر تقسیم کی جاتی ہیں۔ اس لیے حتمی نتائج اور مخصوص نشستوں کی تقسیم کے بعد ہی واضح ہوگا کہ اگلی حکومت کون سی جماعت تشکیل دے گی اور وزارتِ اعلیٰ کا منصب کس کے حصے میں آئے گا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو پیپلز پارٹی حکومت سازی کی مضبوط پوزیشن میں ہوگی، تاہم آزاد امیدواروں اور مخصوص نشستوں کی تقسیم آئندہ سیاسی منظرنامے کے تعین میں اہم کردار ادا کرے گی۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں