مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور کشیدگی نے نہ صرف سیاسی اور اقتصادی صورتحال کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی سیاحت کی صنعت کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ خاص طور پر متحدہ عرب امارات (UAE) اور دبئی، جو دنیا کے بڑے لگژری ٹورازم حب مانا جاتا ہے۔ حال یہ ہے کہ اس وقت طلب میں نمایاں کمی، ہوٹل ریٹس میں گراوٹ اور خصوصی رعایتی پیکیجز سے ہوٹل انڈسٹری کوبہتر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
عالمی رپورٹس کے مطابق خطے میں جنگی صورتحال اور فضائی راستوں کی بندش نے سیاحتی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔جس کے باعث دبئی کے متعدد فائیو اسٹار ہوٹلز کو اپنی قیمتوں میں کمی، اسٹے کیشن آفرز اور خصوصی ڈسکاؤنٹس متعارف کرانے پڑے ہیں۔ بعض ہوٹلز میں بکنگ کی شرح میں واضح کمی دیکھی گئی ہے، جس کے بعد کاروبار کو برقرار رکھنے کے لیے رعایتی حکمتِ عملی اپنائی جا رہی ہے۔
پام جمیرہ سمیت معروف سیاحتی مقامات پر واقع 5 اسٹار ہوٹلوں نے رہائشیوں کے لیے خصوصی رعایتی پیکجز متعارف کرائے ہیں۔ اسی دباؤ کےکی وجہ سے دبئی کے مشہور بیچ کلب Barasti براستی کی 30 سال بعد عارضی بندش کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، جسے سیاحت اور تفریحی سیکٹر پر جاری دباؤ کی ایک علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ انتظامیہ کی جانب سے اسے وقتی فیصلہ کہا گیا ہے، تاہم یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تفریحی مقامات بھی موجودہ صورتحال کے اثرات سے محفوظ نہیں رہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ بحران کی بنیادی وجوہات میں خطے کی جغرافیائی غیر یقینی صورتحال، فضائی حدود میں خلل، اور بین الاقوامی سیاحوں کی جانب سے سفر کے فیصلوں میں تاخیر شامل ہے۔ کئی ممالک نے سفری ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو خطے کے بعض حصوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ جس سے سیاحتی انڈسٹری مزید دباؤ کا شکار ہوئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق دبئی جیسے شہر، جو پہلے ریکارڈ تعداد میں سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ رہے تھے، اب ہوٹل اوکپنسی اور ریونیو میں کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق ہزاروں بکنگ منسوخ ہوئیں اور کچھ ہوٹلوں کو اپنی قیمتوں میں 30 سے 60 فیصد تک کمی کرنا پڑی۔
اس صورتحال نے سیاحتی صنعت کے اس ماڈل کو بھی متاثر کیا ہے جو “لگژری مگر محفوظ ڈیسٹینیشن” کے تصور پر کھڑا تھا۔ اب مسافر نہ صرف قیمت بلکہ سیکیورٹی، فضائی استحکام اور سفری رسک کو بھی فیصلہ کن عنصر کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
سیاحت کے ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی طویل ہوئی تو دبئی اور خطے کے دیگر ٹورسٹ حب کو صرف عارضی نقصان نہیں بلکہ طویل مدتی برانڈ امیج چیلنج کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔ تاہم کچھ تجزیہ کار یہ بھی سمجھتے ہیں کہ صورتحال بہتر ہونے کے بعد یہ مارکیٹ دوبارہ تیزی سے بحال ہو سکتی ہے، کیونکہ دبئی اب بھی عالمی لگژری ٹورازم کا مضبوط مرکز ہے۔
مجموعی طور پر موجودہ بحران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جدید سیاحت اب صرف خوبصورت مقامات یا لگژری سہولتوں پر نہیں بلکہ عالمی امن، استحکام اور جغرافیائی سیاست سے بھی براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔