کسی گروہ یا جماعت پر پابندی معمولی بات نہیں، انتہائی قدم ہے۔ کیا سبب ہے کہ آزاد کشمیر کی حکومت ایکشن کمیٹی پر پابندی پر مجبور ہوئی؟ اس سوال کا جواب مل گیا تو سمجھیے، یہ معمہ بھی حل ہو گیا۔ آزاد کشمیر کا ایک خاص سیاسی مزاج ہے۔ سیاسی مخالفت کتنی ہی شدید کیوں نہ ہو جائے، اس خطے میں نوبت تشدد تک کبھی نہیں پہنچی۔ پر امن بقائے باہمی اس خطے کا گویا غیر تحریری دستور ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے ظہور کے بعد معاملہ پہلی بار تشدد تک پہنچا۔ مسلح مظاہرین بھی پہلی بار دیکھے گئے جنھوں نے سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی۔ آزاد کشمیر جیسے پر امن خطے میں ایسا پہلی بار ہوا۔ یہ معمولی واقعہ نہیں تھا۔ اس کے نتائج کتنے سنگین ہو سکتے ہیں، اس پر بات ہو گی۔
یہ کمیٹی 38 مطالبات کے ساتھ سامنے آئی تھی جن میں سے 35 یا 36 مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں۔ اب ایک یا دو مطالبے باقی ہیں جن میں مہاجرین کی بارہ نشستوں کا معاملہ سب سے اہم ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ تھوڑے تھوڑے ووٹ لے کر منتخب ہونے والے بارہ ارکان سیاسی توازن خراب کرتے ہیں اور کسی بحران کے وقت وفا داری تبدیل کر کے بحران پیدا کر دیتے ہیں۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ مہاجرینہکی نشستیں ختم کرنے سے ایسا کون سا قیامت ٹوٹ پڑے گی؟ آخر ستر کی دہائی تک یعنی آئین بننے سے پہلے بھی تو مہاجرین کی نمائندگی نہیں تھی۔
تاریخی اعتبار سے یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ آزاد حکومت کے قیام کے وقت سے ہی حکومت میں مہاجرین کی نمائندگی رہی ہے۔ سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں بننے والی آزاد کشمیر کی پہلی حکومت پانچ وزرا پر مشتمل تھی، اس میں دو وزیر مہاجر تھے۔ ایوب دور میں بنیادی جمہوریتوں کے نظام میں 2400 ارکان پر مشتمل الیکٹورل کالج وجود میں آیا تھا جن میں بارہ سو ارکان مہاجر تھے۔ آئین بنا تو جموں اور وادی کے لیے بارہ نشستیں مخصوص کر دی گئیں۔
یہ نشستیں ختم کرنے کے اثرات متنوع ہیں۔ ہجرت کر کے پورے ملک میں قیام پذیر کشمیریوں کی نمائندگی ختم ہو جائے گی۔ صرف یہ نہیں ہو گا، جموں اور وادی کی علامتی نمائندگی ہی ختم ہو جائے گی۔ یہ اقدام کشمیر کے سلسلے میں ہمارے تاریخی اور منصفانہ مؤقف کے خاتمے پر منتج ہو گا۔
5 اگست کو مودی حکومت کے ظالمانہ اقدامات کے بعد ان علامتی نشستوں کی اہمیت میں ماضی سے بڑھ کر اضافہ ہو چکا ہے۔ اس مرحلے پر نشستوں کے خاتمے کا مطلب مودی کے غیر قانونی اقدامات کی تائید ہو گا۔ اس پس منظر میں ان نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ شکوک وشبہات پیدا کرتا ہے۔
اس بنیاد پر تشدد فروغ دینا بھی شکوک وشبہات پیدا کرتا ہے کیوں کہ اس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر کی طرح آزاد کشمیر میں بھی بے چینی کی صورت حال پیدا ہو جائے گی جو بھارت کی دیرنہ خواہش ہے۔ اس لیے ایکشن کمیٹی کا ابھرنا معمولی معاملہ نہیں، اس کے پس پشت ضرور کوئی بڑا کھیل ہے۔
آزاد کشمیر حکومت ہو یا پاکستان کی حکومت، ان دونوں نے طویل عرصے تک تحمل کا مظاہرہ کیا ہے لیکن کمیٹی والوں نے ہجوم اور تشدد کے ذریعے مطالبات منوانے پرضد کر کے حکومت کو انتہائی اقدام پر مجبور کیا ہے۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ کشمیر کے تمام سیاسی گروہ اس کھیل کو سمجھ رہے ہیں اور وہ اس کھیل کی حمایت نہیں کرتے۔ توقع ہے کہ عوام بھی اس کھیل سے علیحدہ رہ کر اس سازش کو ناکام بنا دیں گے۔
سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم پہلے زمینی حقائق کو سمجھیں ۔ کیونکہ اگر توجہ نہیں دی گئی خاص کر اب عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی کے بعد یہ سوال پوری قوت کے ساتھ ابھر کر سامنے آیا ہے۔ کیا یہ کسی بحران کی ابتدا ہے؟