مکہ مکرمہ: حج ایک عظیم مذہبی فریضہ نہیں بلکہ انتظامی، تکنیکی اور لاجسٹکس کے اعتبار سے دنیا کے سب سے بڑے اور پیچیدہ آپریشنز میں شمار ہوتا ہے۔ لاکھوں افراد کی نقل و حرکت، رہائش، خوراک، صحت، ٹرانسپورٹ اور سیکیورٹی کے انتظامات کے لیے سعودی عرب سال بھر تیاری کرتا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق حج 1447 ہجری (2026) میں مجموعی طور پر 17 لاکھ 7 ہزار 301 افراد نے فریضۂ حج ادا کیا۔ان میں 15 لاکھ 46 ہزار 655 عازمین بیرون ملک سے آئے جبکہ 1 لاکھ 60 ہزار 646 سعودی شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں نے حج کی سعادت حاصل کی۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سال 8 لاکھ 93 ہزار 396 مرد اور 8 لاکھ 13 ہزار 905 خواتین حج میں شریک ہوئیں۔180سے زائد ممالک کے مسلمان شریک ا س سال دنیا کے 180 سے زائد ممالک سے مسلمان مکہ مکرمہ پہنچے۔ مختلف زبانوں، ثقافتوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان ایک ہی لباس احرام میں نظر آئے۔ انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور پاکستان ان ممالک میں شامل تھے جن کا حج کوٹہ سب سے زیادہ تھا۔

سعودی پریس ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق حج 1447 ہجری (2026) میں مجموعی طور پر 17 لاکھ 7 ہزار 301 افراد نے فریضۂ حج ادا کیا۔ان میں 15 لاکھ 46 ہزار 655 عازمین بیرون ملک سے آئے جبکہ 1 لاکھ 60 ہزار 646 سعودی شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں نے حج کی سعادت حاصل کی۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سال 8 لاکھ 93 ہزار 396 مرد اور 8 لاکھ 13 ہزار 905 خواتین حج میں شریک ہوئیں۔180سے زائد ممالک کے مسلمان شریک ا س سال دنیا کے 180 سے زائد ممالک سے مسلمان مکہ مکرمہ پہنچے۔ مختلف زبانوں، ثقافتوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان ایک ہی لباس احرام میں نظر آئے۔ انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور پاکستان ان ممالک میں شامل تھے جن کا حج کوٹہ سب سے زیادہ تھا
پاکستان نے مکمل کوٹہ استعمال کیا
پاکستان کو اس سال 1 لاکھ 79 ہزار 210 عازمین کا حج کوٹہ ملا، جسے مکمل طور پر استعمال کیا گیا۔تقریباً 1 لاکھ 20 ہزار پاکستانی سرکاری اسکیم کے تحت جبکہ باقی نجی حج آپریٹرز کے ذریعے سعودی عرب پہنچے۔ “روڈ ٹو مکہ” منصوبے کے تحت اسلام آباد، لاہور اور کراچی ایئرپورٹس پر ہی سعودی امیگریشن مکمل کی گئی، جس سے پاکستانی عازمین کو سہولت ملی۔
قربانی کا عالمی نظام

حج کے دوران قربانی کے تین دنوں میں دنیا کا سب سے بڑا مربوط قربانی اور گوشت تقسیم کرنے کا نظام متحرک ہو جاتا ہے۔گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس سال تقریباً 11 سے 12 لاکھ جانور قربان کیے گئے۔ سرکاری قربانی منصوبے کے تحت فی جانور اوسط قیمت تقریباً 550 سعودی ریال (150 امریکی ڈالر) رہی۔اس طرح صرف چند دنوں میں قربانیوں کی مجموعی مالیت 15 سے 16 کروڑ امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔قربانی کے بعد گوشت کا ایک حصہ مقامی ضرورت مندوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جبکہ باقی گوشت جدید پلانٹس میں محفوظ کر کے منجمد حالت میں مختلف ممالک کو بھیجا جاتا ہے۔ یہ گوشت فلسطین، صومالیہ، مالی، نائجر، افغانستان اور روہنگیا مہاجرین سمیت ضرورت مند آبادیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے دنیا کا بڑا کولنگ نیٹ ورک
اس سال حج کے دوران درجہ حرارت 45 سے 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا۔عازمین کو گرمی سے محفوظ رکھنے کے لیے منیٰ، عرفات اور مسجد الحرام میں بڑے پیمانے پر کولنگ سسٹمز، واٹر مسٹ اسپرے اور جدید پنکھوں کا استعمال کیا گیا۔منیٰ کے خیموں کے شہر اور مسجد الحرام کے اطراف میں کام کرنے والے مرکزی کولنگ پلانٹس کی مجموعی استعداد 2 لاکھ 50 ہزار ٹن سے زائد بتائی جاتی ہے۔عرفات کے میدان میں نصب کولنگ سسٹمز اور سایہ دار ڈھانچے سال بھر برقرار رکھے جاتے ہیں جبکہ حج کے بعد ان کی مسلسل دیکھ بھال کی جاتی ہے۔
بجلی کا غیر معمولی استعمال:
حج کے دنوں میں مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ میں بجلی کی طلب 5 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر جاتی ہے۔اس طلب کو پورا کرنے کے لیے مستقل بجلی نظام کے ساتھ ہنگامی صورتحال کے لیے سینکڑوں بیک اپ جنریٹرز بھی تیار رکھے جاتے ہیں۔مسجد الحرام کے گرد سفید سنگ مرمر کا خصوصی فرش بھی نصب ہے جو شدید دھوپ میں بھی نسبتاً ٹھنڈا رہتا ہے اور لاکھوں زائرین کو سہولت فراہم کرتا ہے۔
صرف سات دن چلنے والی میٹرو
عازمین کی نقل و حرکت کے لیے المشاعر مقدسہ میٹرو کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔اربوں ڈالر لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ ریلوے نظام سال بھر تقریباً غیر فعال رہتا ہے لیکن حج کے دنوں میں لاکھوں افراد کو منیٰ، عرفات اور مزدلفہ کے درمیان منتقل کرتا ہے۔اس کے علاوہ ہزاروں جدید ائیرکنڈیشنڈ بسیں بھی چوبیس گھنٹے سروس فراہم کرتی ہیں۔
ڈرونز اور مصنوعی ذہانت کا استعمال:
ہجوم اور ٹریفک کی نگرانی کے لیے سعودی حکام ڈرونز، مصنوعی ذہانت پر مبنی کیمرے اور جدید کنٹرول رومز استعمال کرتے ہیں۔
یہ نظام حقیقی وقت میں صورتحال کا جائزہ لے کر ٹریفک سگنلز اور نقل و حرکت کے انتظامات کو بہتر بناتا ہے۔
تین لاکھ افراد پر مشتمل آپریشنل فورس:حج کے دوران انتظامی امور سنبھالنے کے لیے 3 لاکھ سے زائد افراد مختلف شعبوں میں خدمات انجام دیتے ہیں۔
- 40 ہزار سے زائد صفائی کارکن
- 50 ہزار سے زائد ڈاکٹرز، نرسیں اور طبی عملہ
- ایک لاکھ سے زائد سیکیورٹی اہلکارشامل ہوتے ہیں۔
طبی سہولتوں کے لیے عارضی اسپتال، فیلڈ کلینکس اور ہزاروں ایمبولینسز بھی تعینات کی جاتی ہیں۔
سال بھر کی منصوبہ بندی، چند دنوں کا انتظام
ماہرین کے مطابق حج دنیا کا واحد ایسا اجتماع ہے جس کے لیے پورا سال منصوبہ بندی، انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال اور انتظامی تیاری جاری رہتی ہے، تاکہ چند دنوں میں لاکھوں افراد کو محفوظ، منظم اور سہولتوں سے آراستہ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
اعداد و شمار: سعودی پریس ایجنسی (SPA) گلف نیوز ۔