loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
15-Jul-2026
29-Muharram-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
15-Jul-2026
29-Muharram-1448

کراچی : وفاقی حکومت اور سندھ حکومتکے درمیان حالیہ مفاہمت نے سنھ ی اپوزیشن جماعتوں کو بڑا سیاسی جھٹکا دے دیا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں سے وفاق اور سندھ کے درمیان اختلافات میں اضافے اور بعض سیاسی حلقوں میں پیدا ہونے والی قیاس آرائیوں کے باعث اپوزیشن جماعتوں نے نئے سیاسی امکانات سے غیر معمولی توقعات وابستہ کر لی تھیں، تاہم تازہ رابطوں اور مذاکرات کے بعد ان امیدوں کا غبارہ بیٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔

اعلیٰ سطحی ذرائع کے مطابق وفاق اور سندھ کے درمیان مالیاتی معاملات، آئندہ وفاقی و صوبائی بجٹ، ترقیاتی منصوبوں اور وسائل کی تقسیم سمیت متعدد امور پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ دونوں جانب اختلافی نکات پر رابطے جاری رکھنے اور معاملات کو تصادم کے بجائے افہام و تفہیم سے آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان سیاسی تعاون اور پارلیمانی ہم آہنگی بدستور برقرار رہے گی۔ اہم سیاسی اور معاشی فیصلوں میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی نظر آئیں گی، جس سے اپوزیشن کی جانب سے متوقع کسی بڑی سیاسی تبدیلی کے امکانات کمزور پڑ گئے ہیں۔

سیاسی حلقوں میں زیر گردش یہ دعوے بھی حقیقت کا روپ نہ دھار سکے کہ پیپلز پارٹی کے بعض ارکان اسمبلی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ رابطوں میں ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایسے دعوؤں کے حق میں کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی اور پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پوزیشن مستحکم ہے۔

دریں اثنا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے مستقبل سے متعلق پھیلنے والی افواہیں بھی دم توڑ گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق بی آئی ایس پی کو صوبائی حکومتوں کے سپرد کرنے یا اس کے موجودہ ڈھانچے میں فوری تبدیلی کی کوئی تجویز زیر عمل نہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کے درمیان مذاکرات میں بی آئی ایس پی کا معاملہ ضرور زیر بحث آیا، تاہم کسی نئے فریم ورک یا انتظامی ماڈل پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ فریقین نے موجودہ نظام برقرار رکھتے ہوئے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق وفاق اور سندھ کے درمیان تعلقات میں بہتری اور پیپلز پارٹی و مسلم لیگ (ن) کے درمیان اعتماد کی بحالی نے سندھ کی اپوزیشن کی سیاسی حکمت عملی کو دھچکا پہنچایا ہے۔ گزشتہ ماہ سے سرگرم اپوزیشن جماعتوں کو اب بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں اپنی ترجیحات اور حکمت عملی پر ازسرنو غور کرنا پڑ سکتا ہے

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں