سائنس کی دنیا میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جس میں پہلی بار انسان پر اینٹی ایجنگ جین تھراپی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔
امریکا کے شہر بوسٹن میں قائم بائیو ٹیک کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ کمپنی کے پہلے انسانی کلینیکل ٹرائل میں ایک رضا کار کی جدید اینٹی ایجنگ تھراپی کامیاب رہی۔
یہ تجرباتی علاج دراصل خلیاتی سطح پر بڑھاپے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جس میں “سیلولر ری پروگرامنگ” ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔ اس طریقے کے ذریعے بوڑھے خلیات کو دوبارہ جوان جیسا بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ وہ بہتر طریقے سے کام کر سکیں۔
رپورٹ کے مطابق ابتدائی مرحلے میں اس تھراپی کو آنکھوں کی بیماریوں، خصوصاً گلوکوما اور دیگر بصارت سے متعلق مسائل کے علاج کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ تھراپی خراب خلیات کو دوبارہ فعال بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تھراپی مخصوص جینیاتی عوامل (یاماناکا فیکٹرز) کے ذریعے خلیات کے “ایپی جینیٹک” نظام کو ری سیٹ کرتی ہے جس سے خلیات اپنی جوان حالت کی طرف واپس جا سکتے ہیں۔ اس عمل کو محفوظ رکھنے کے لیے دوا کو کنٹرول کرنے کا نظام بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ کسی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔
یہ تحقیق فی الحال ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کا بنیادی مقصد اس کی حفاظت اور اثرات کا جائزہ لینا ہے، تاہم اگر یہ کامیاب ثابت ہوتی ہے تو مستقبل میں بڑھاپے سے جڑی بیماریوں کے علاج میں انقلاب آ سکتا ہے۔