ہمارے بچپن کی یادوں میں کٹھل ایک نوکداراور کانٹوں والا پھل تھا لیکن آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ بہت بڑا،مگر مزےدار ، رسیلا ۔پھل ہے۔اس کی ایک الگ سی خوشبو ہے جو اسے دوسرے بھلوں سے ممتاز کرتی ہے۔ عرصہ ہوا اس کے ذائقے کو چھکے ہوئے ۔ لیکن کچھ کریمی اور وینلا کی سی خوشبو یاد ہے۔ یہ سب بچپن کی باتیں ہیں ہوسکتا ہے اب ایسا نا ہو یا صرف ہمارے ذہین میں بسی یاد ہو۔
یقینا آپ میں سے بہت سارے لوگ کٹھل سے واقف نہیں ہوں گے۔ لیکن ہمیں یہ اس لئے پسندہے کیونکہ کٹھل سے ہماری بچپن کی یادیں جڑی ہوئی ہیں ۔ اس کا ایک گھنا درخت ہماری بڑی خالہ جان کے ہاں تھا۔ جب ہم چھٹی والے دن اور خاص کر گرمیوں کی چھٹیوں میں وہاں رہنے پہنچتے اور سب کزن پورا دن گھماچوکڑی مچا نے کے بعد بھی بےچین ہوتے تو ہمارے بڑے ہمیں اس درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئےڈراتے اور کہتے کہ وہ دیکھو بھوت آجائے گا اگرتم لوگ نہیں سوئیں ۔خاص کر مغرب کے بعد اندھرے میں یہ بڑا سا درخت اور اس پر لٹکے کھٹل بھوت کے بچے ہی لگتے تھے۔ ہمیں یقین تھا کہ جن بھوت کی کوئی نا کوئی قسم اس درخت پر موجود ہے۔
زرا بڑے ہوئے ،بچپن گزرا اور لڑکپن آیا ،آج یہ سب یادیں سنہری اور روپیلی کٹھل کی پھل کی طرح لگ رہی ہیں ۔خاص کر گرمیوں کی دوپہروں میں جب خالہ جان کے گھر جاتے اور ہم سب بچوں کو حکم ملتا کے بڑے سب سوئیں گے کسی کی آواز نا آئے اور انہیں تنگ نا کیا جائے تو ہم سب بچےدوپہری بھر اس مضبوط اور گھنے درخت کے نیچے بیٹھے رہتے اور کیاریوں میں جونکلوں پر نمک چھڑکتے رہتے ۔

زرا سمجھ آئی تو جہاں جونکوں پر نمک چھڑکنا چھوڑا وہیں اس کانٹوں والے پھل کا ذائقہ چھکا جو اپنی مٹھاس کی وجہ سے ہم بچوں کو مزرےدار لگا۔سنہرا، میٹھا اور لیس دار ۔اس کےبیج ابال کے ملے تو وہ بھی مزے دار ، رات میں کھانے میں مچھلی کا سالن ملا تو معلوم ہوا کہ یہ مچھلی نہیں بلکہ کھٹل ہی ہے۔ خیر ہمیں تو بچپن سے ہی کھٹل تازہ کھانے میں مزہ آیا۔ پھر ایک وقت آیا کہ وہ درخت خالہ جان کو کٹوانا پڑا کیونکہ اس کی جڑیں پانی کے ٹینک تک پہنچ گئیں تھیں۔ اس مضبوط درخت پر لدے اتنے وزنی پھلوں کو سنبھلانے کے لئے مضبوط اور لمبی جڑیں چاہیں ہی ہوتیں ہوں گی۔
خیر کھٹل ہمیں اس لئے یاد رہا کیونکہ یہاں کراچی میں بنگلا بازاروں میں یہ پھل نظر آئے لیکن وہ نسبتا چھوٹے تھے۔ہم نے اپنے پچپن میں بڑے اور وزنی کھٹل دیکھے تھے بنگلہ بازارمیں ان جیسے نہیں تھے ۔
پھر پچھلے سال ہمیں بنگلہ دیش میں بڑے بڑے کٹھل درخت پر لٹکے نظرآئے تھے ۔ معلوم ہوا کہ یہ بنگلہ دیش کا قومی پھل ہے۔ یہ ہی نہیں بنگلا دیشی اخبار “ڈیلی اسٹار“کی خبرکے مطابق یہ ایک سپر فوڈ ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا درخت پر اگنے والا پھل ہے۔ ایک کٹھل کا وزن بعض اوقات 30 سے 40 کلوگرام تک پہنچ جاتا ہے۔ ۔

بنگلا دیش کا قومی پھل کٹھل دنیا کے بڑے اور غذائیت سے بھرپور پھلوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ وٹامن سی، پوٹاشیم، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے۔ ماہرین غذائیت کے مطابق یہ نظامِ ہاضمہ بہتر بنانے، قوتِ مدافعت بڑھانے اور جسم کو توانائی فراہم کرنے میں مددگار ہے۔ اس کے بیج بھی غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں جنہیں ابال کر یا بھون کر کھایا جاتا ہے۔
اس پھل کی خاص بات یہ ہے کہ اسے صرف پکا ہوا ہی نہیں بلکہ کچا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔حد تو یہ تھی کہ پچھلے دنوں میں نے کھٹل سے حلیم کی ترکیب کی ویڈیو دیکھی ۔ مجھے پھر یاد آیا کہ کھٹل جو میٹھا اور رسیلا ہوتا ہے۔ اس کے گودے سے میٹھے، شیک، آئس کریم، جام اور مختلف روایتی مٹھائیاں بھی تیار کی جاتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت اور متعدد غذائی تحقیقی اداروں کے مطابق کٹھل وٹامن سی، وٹامن اے، پوٹاشیم، میگنیشیم، کیلشیم اور غذائی فائبر کا اچھا ذریعہ ہے۔ اس میں اینٹی آکسیڈنٹس بھی پائے جاتے ہیں جو جسم کو مختلف بیماریوں سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔

ماہرین غذائیت کے مطابق کٹھل میں موجود فائبر نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے اور قبض جیسے مسائل سے بچاتا ہے۔ پوٹاشیم دل کی صحت کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے جبکہ وٹامن سی جسم کی قوتِ مدافعت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی وجہ سے مغربی ممالک میں بھی کٹھل کی مانگ بڑھ رہی ہے اور اسے صحت بخش غذا کے طور پر متعارف کرایا جا رہا ہے۔
آج جب دنیا پائیدار خوراک اور موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں ایسی فصلوں کی تلاش میں ہے جو کم وسائل میں زیادہ غذائیت فراہم کر سکیں، تو کٹھل کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اسے مستقبل کی غذاؤں میں شمار کرتے ہیں۔
کراچی کے کسی بنگالی بازار میں کٹھل کو دیکھ کر شاید نئی نسل صرف ایک پھل دیکھے، لیکن پرانی نسل کے لیے یہ بچپن، خاندان، درختوں کی چھاؤں اور مٹی کی خوشبو سے جڑی ایک پوری داستان ہے۔
معلوماتی تحریر ۔۔ہمیں تو معلوم نہیں تھا کٹھل کے اتنے فوائد ہے۔اب بس کٹھل کی شامت ہے۔۔کہی۔ سے بھی ڈھونڈ کراسکےذائقےسے مستفید ہونا ہے
👍
Very nice and informative
Horticulture I, Gardening, used to be a principal hobby of our elders. Home GR own fruit and vegetables used to be shared with neighbors and relatives. Florence and scents emitting Early morning from variety of flower plants and trees boosted spirits high. So much so “R at ki Rani” at night and ” Mad o Kamni” ” Chumpa” at Dawn scented air that Florence enriched neighbourhood. Old practices were discarded under anxieties and pressure of circumstances.Modern hobby of leisure time revolutionary changes in culture. Technology in urban life abolished family dinner even and no more discussions restricted to texting