loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
15-Jul-2026
29-Muharram-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 29°C
15-Jul-2026
29-Muharram-1448

خودکشی :

اٹھارہ مئی 2026۔ وفاقی شرعی عدالت نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 325 بحال کر دی۔ نہ کوئی احتجاج ہوا، نہ ہنگامی اجلاس بلایا گیا، نہ کسی اتحاد نے اس فیصلے کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ ایک ایسا قانون جو خودکشی کی کوشش میں بچ جانے والے فرد کو مجرم قرار دیتا ہے، معمول کے بجٹ نوٹیفکیشن سے بھی کم شور کے ساتھ واپس آ گیا۔ یہ خاموشی خود بتاتی ہے کہ اس ملک میں کن جانوں کو تحفظ کے قابل سمجھا جاتا ہے اور کن کو نہیں۔

دفعہ 325 کی بنیاد اسلامی نہیں تھی۔ یہ 1860 میں برطانوی نوآبادیاتی قانون سے لی گئی، تقسیمِ ہند کے بعد ورثے میں ملی، اور کبھی سنجیدگی سے اس کا جائزہ نہیں لیا گیا کیونکہ جن لوگوں کو یہ قانون نقصان پہنچاتا ہے، وہ کبھی ایسا حلقہ نہیں رہے جس کے لیے لڑا جائے۔ ان میں نفسیاتی بحران کا شکار افراد، بے سہارا خواتین، دستاویزات اور پناہ گاہ سے محروم خواجہ سرا افراد، اور قرض کے بوجھ تلے دبے مرد شامل ہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہکیونکہ  خودکشی کی کوشش کو جرم نہ سمجھنا قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ جبکہ  اسلامی فقہ اس کے برعکس کہتی ہے کہ کسی بھی قانونی ذمہ داری کے لیے عقل و شعور کا درست ہونا ضروری ہے۔یہ طے شدہ بات ہے کہ کسی بھی قسم کی شدید ذہنی بیماری جوابدہی کو معطل کر دیتی ہے، اور انسانی جان کا تحفظ شریعت کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ لیکن اس فیصلے میں  بظاہر یہ نکات زیرِ بحث ہی نہیں تھے۔

ہمارے خیال میں یہ قانون سب پر یکساں طور پر لاگو نہیں ہوتا۔ گھریلو تشدد، ملازمت کی جگہ پر ہراسانی اور اذیت کا شکار خواتین ہو یا پھر کسی ادارہ جاتی تحفظ سے محروم خواجہ سرا ، اور وہ مرد جن کے پاس نہ سماجی اثر و رسوخ ہے نہ قانونی سہارا۔یہ سب اس قانون سے اپنی زندگی کے سب سے کمزور لمحے میں کی قید میں آجاتے  ہیں اور خودکشی کی کوشش کر بیٹھتے ہیں۔زرا سوچیں کہ  ایک ایسی عورت جو پہلے ہی اپنے گھر سے جان بچا کر بھاگ رہی ہو، اب زندہ بچ جانے پر بھی مجرم بن جائے گی ۔ یہ تحفظ نہیں، بلکہ ریاست کا یہ فیصلہ ہے کہ اس کا بحران اسی کی اپنی غلطی ہے۔کسی نے خودکشی کی کوشش کیوں کی ریاست اور ادارے کہاں اس کی مدد کو نہیں پہنچ سکے اس پر کسی کی فرگت نہیں۔

فیمیسائیڈ (Femicide)

یو این او کے مطابق فیمیسائیڈ “خواتین اور لڑکیوں کا ایسا قتل ہے جو صنفی بنیادوں پر کیا جائے، اور جو اکثر قریبی شریکِ حیات، خاندان کے افراد یا خواتین کے خلاف امتیازی سماجی رویوں سے جڑا ہوتا ہے۔”ہمارے ہاں اس حوالے سے معلومات اور رپورٹنگ کی کمی  نہیں ۔ فیمیسائیڈ سوشل میڈیا پر نظر آتا ہے، ٹی وی پروگراموں میں دو دن تک موضوع  بحث رہتا ہے، اور ڈونر اداروں کی رپورٹس میں شامل ہو کر ہوٹلوں کی کانفرنسوں میں گردش کرتا ہے، پھر فائلوں میں بند ہو جاتا ہے۔

لیکن یہ شاذ و نادر ہی پارلیمنٹ کی ایسی بحث کا موضوع بنتا ہے ،جہاں کسی کو اعدادوشمار پر جواب دینا پڑے، یا وکلا اور ججوں کی ایسی نشست کا حصہ بنتا ہے جہاں یہ پوچھا جائے کہ سزا کی شرح اتنی کم کیوں ہے کہ زیادہ تر مجرم آزاد گھومتے ہیں، یا کسی ایسی سول سوسائٹی مہم کا مرکزی نقطہ  بنتا ہے جو ڈونر فنڈ ختم ہوتے ہی بند نہ ہو جائے۔

پاکستان میں فیمیسائیڈ کوئی پوشیدہ مسئلہ نہیں۔ اسے منظم طریقے سے نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اس کا شکار زیادہ تر خواتین اور لڑکیاں بنتی ہیں۔ توجہ اس وقت بڑھتی ہے جب کوئی واقعہ اتنا ہولناک ہو کہ لوگوں کی دلچسپی برقرار رکھ سکے، اور پھر غائب ہو جاتی ہے جب ایسا نہ رہے۔ اس دوران اداروں کا ردعمل خاموشی ہوتا ہے—وہ خاموشی جسے معمول کا حصہ سمجھ لیا گیا ہے۔

فیلی سائیڈ (Filicide)

یہ وہ مقام ہے جہاں ناکامی سب سے زیادہ واضح نظر آتی ہے کہ کوئی چارہ نہیں کہ اپنے ہی  بچے کو قتل کر دینے میں عافیت نظر آئے۔اس فعل اور کیفت کو الفاظ میں ڈھالنے کے لئے ہمارے ہاں  الفاظ ہی نہیں۔ ایک والدین اپنے بچے کو قتل کر دیتا ہے۔ ہماری لغت میں “قتل” موجود ہے، سرخیوں میں “سفاک” کا لفظ موجود ہے، اور ایک اخلاقی فیصلہ موجود ہے جو تقریباً ہمیشہ ماؤں پر لاگو کیا جاتا ہے۔ مگر بات وہیں ختم ہو جاتی ہے۔

نفسیات اور قانون میں استعمال ہونے والا لفظ “فیلی سائیڈ” مختلف سوالات کا تقاضا کرتا ہے: نظام کہاں ناکام ہوا؟ یہ ناکامی کب شروع ہوئی؟ کس کو اس پر توجہ دینی چاہیے تھی؟ اور کس نے توجہ نہیں دی؟

پاکستان میں زچگی کے بعد ذہنی صحت کی جانچ کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں۔ کیا ملزم  مثبت اور خوشگوار ذہینی سطح کا حامل تھا۔کیا ٹرائل کے دوران اس کے زہینی سطح کا جانچا گیا تھا ؟ جو اسی ملک میں تیار اور سائنسی طور پر آزمایا گیا، جسے عالمی ادارۂ صحت نے اپنے عالمی ذہنی صحت پروگرام کے حصے کے طور پر تسلیم کیا، اور جس کے ذریعے حمل اور زچگی کے دوران ڈپریشن کا شکار چار میں سے تین خواتین صحت یاب ہو جاتی ہیں۔

بعد از زچگی نفسیاتی بیماری کا شکار خواتین، گھریلو تشدد اور معاشی انحصار کے بوجھ تلے دبی خواتین، ایسی خواتین جن کے لیے نہ کوئی پناہ گاہ موجود ہے نہ کوئی مؤثر  ہیلپ لائن۔

اور یہی آخرکار سرخی بن جاتی ہیں: “سفاک ماں نے اپنے بچے کو مارڈالا”۔ مگر سرخی بنانے والے  یہ نہیں پوچھتے کہ اس سے پہلے کیا ہوا تھا۔ نہ پلاننگ کمیشن یہ سوال کرتا ہے۔ نہ وہ فنڈڈ منصوبہ جو اعدادوشمار کے مسلسل خطرے کی نشاندہی کے باوجود مقررہ مدت پوری ہونے پر بند ہو جاتا ہے۔

ہم نے ایک ایسا پروگرام بنایا جسے دنیا نے اپنایا، مگر خود استعمال نہیں کیا۔ یہ محض غفلت نہیں، بلکہ یہ ایک فیصلہ ہے کہ کس کی تکلیف اہم سمجھی جاتی ہے اور کس کی نہیں۔

میں ان تینوں مسائل پر تیس برس سے زیادہ عرصے سے کام کر رہی ہوں۔ اس کام کا بیشتر حصہ فنڈڈ منصوبوں سے باہر، ڈونرز کی ترجیحات سے ہٹ کر، اور ان کمروں سے دور انجام پایا جہاں فیصلے کیے جاتے ہیں۔ میں یہ بات ہمدردی حاصل کرنے کے لیے نہیں کہہ رہی، بلکہ اس لیے کہ یہ طرزِ عمل اہم ہے۔

یہ تینوں بحران ایک ہی قسم کی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ توجہ اس وقت آتی ہے جب کوئی منصوبہ موجود ہو۔ منصوبے کی مدت تین سے پانچ سال ہوتی ہے۔ جب وہ ختم ہو جاتا ہے تو اعدادوشمار جمع ہونا بند ہو جاتے ہیں، اتحاد بکھر جاتے ہیں، اور سفارشات ان رپورٹس میں دفن ہو جاتی ہیں جنہیں کسی وزارت نے طلب بھی نہیں کیا تھا۔ مسئلہ اپنی رفتار سے برقرار رہتا ہے۔

لہٰذا اب جو ہونا چاہیے، اس کے لیے کسی نئے خیال کی ضرورت نہیں۔

قانون سازوں کو قومی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر فیمیسائیڈ کو ایک قانون سازی کی ہنگامی صورتحال قرار دینا ہوگا۔کسی پریس ریلیز میں نہیں، بلکہ ایوان میں کھڑے ہو کراور متعلقہ وزارتوں سے سزا کے اعدادوشمار طلب کرنے ہوں گے۔

عدلیہ اور وکلا برادری کو عوامی سطح پر یہ جائزہ لینا ہوگا کہ صنفی بنیاد پر تشدد کے مرتکب افراد بار بار سزا سے کیوں بچ جاتے ہیں۔دفعہ 325 کو ختم کر کے اس کی جگہ ایسا نظام لایا جانا چاہیے جس میں خودکشی کی کوشش میں بچ جانے والے ہر فرد، خواہ اس کی جنس یا صنفی شناخت کچھ بھی ہو، کے لیے لازمی نفسیاتی معائنہ اور علاج فراہم کیا جائے۔

زچگی کے بعد ذہنی صحت کی جانچ کو لیڈی ہیلتھ ورکرز کے اس نیٹ ورک کے ذریعے لازمی بنایا جانا چاہیے جو پہلے ہی دیہی علاقوں تک رسائی رکھتا ہے۔

فیمیسائیڈ، فیلی سائیڈ اور خودکشی سے متعلق ایک قومی ڈیٹا بیس قائم ہونا چاہیے، جس میں جنس، صنفی شناخت، مجرم سے تعلق اور صوبے کے لحاظ سے تفصیلی معلومات شامل ہوں، جو عوامی طور پر دستیاب ہو اور ہر سال اپ ڈیٹ کیا جائے۔

یہ تجاویز نہیں ہیں۔ یہ کم از کم ضروری اقدامات ہیں۔

سوال یہ نہیں کہ اقتدار میں موجود افراد جانتے ہیں یا نہیں کہ ان اقدامات کی ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب نہ کوئی گرانٹ سائیکل ہو، نہ ڈونر وفد، نہ کوئی کانفرنس کی آخری تاریخ جو وقتی طور پر فکر مند ہونے کو آسان بنا دے، تب کیا کوئی بااختیار شخص واقعی عمل کرے گا؟

ڈاکٹر رخشندہ پروین ،انسانی حقوق کے حوالے سے سرگرام ہیں۔رابطے کے لئے ان اکا ای میل ۔

dr.r.perveen@gmail.com

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں